ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر علی شمخانی نے بیان جاری کرتے ہوئے کہاہے کہ فرض کریں اگر ایٹمی تنصیبات تباہ بھی ہو گئیں تب بھی کھیل ختم نہیں ہوتا۔
تفصیلات کے مطابق علی شمخانی کا کہناتھا کہ افزودہ مواد، مقامی علم اور سیاسی عزم برقرار رہتاہے ،جائزدفاع کے حق کے ساتھ، سیاسی اور عملی پہل اب اُس فریق کے پاس ہے جو سمجھداری سے کام لے اور اندھے حملوں سے گریز کرے۔ حیرت انگیز چیزیں جاری رہیں گی ۔
امریکی حملے کی تفصیلات
امریکی سیکرٹری دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نےحملے کی آپریشنل تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کو ’آپریشن مڈنائٹ ہیمر‘ کا نام دیا گیا، ایران پرامریکی حملہ انتہائی خفیہ مشن تھا جس سے صرف چند لوگ واقف تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکی حملے میں 7 بی 2 طیاروں سمیت 125 سے زیادہ فوجی طیاروں نےحصہ لیا، یہ امریکی تاریخ میں بی 2 بمبارطیاروں کا سب سے بڑا حملہ تھا۔حملے میں مجموعی طور پر امریکی حملےمیں 75 گائیڈڈ ہتھیاروں کا استعمال ہوا جن میں 14 جی بی یو 57 بم بھی شامل تھے جو کہ اس بم کا پہلا آپریشنل استعمال تھا۔
جنرل ڈین نے کہاکہ جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب امریکا سے اسٹیلتھ بی 2 بمبار طیاروں نے امریکا سے اڑان بھری جن میں کچھ طیارے مغرب کی جانب گئے جب کچھ رازداری کے ساتھ مشرق کی جانب گئے۔اپنی 18 گھنٹے طویل پرواز کے دوران ان طیاروں نے فضا میں ہی متعدد بار ری فیولنگ کی۔
جنرل ڈین کین کے مطابق طیاروں کے ایرانی فضائی حدود میں داخل ہونے سے کچھ پہلے امریکی آبدوز نے اصفہان میں کئی تنصیبات ٹاماہاک کروز میزائل داغے۔
ایرانی وقت کے مطابق رات 2 بج کر 10 منٹ پر پہلے بی 2 طیارے نے فردو جوہری پلانٹ پر 2 جی بی یو 57 بم گرائے جس کے بعد دیگر بمبار طیاروں نے اپنے اہداف کو نشانہ بنایا۔ فردو، اصفہان اور نطنز میں اہداف کو 25 منٹ کے دورانیے میں نشانہ بنایا گیا۔ امریکی جنرل نے مزید کہاکہ ابتدائی اندازوں کےمطابق ایران کی تینوں جوہری تنصیبات میں تباہی ہوئی اور شدید نقصان پہنچا۔





















