نجی تھنک ٹینک تولہ ایسوسی ایٹس کی مشرق وسطیٰ بحران پر تازہ تجزیاتی رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ گلف تنازع کے نتیجے میں پاکستان کی معیشت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق تیل کی عالمی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے مہنگائی، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور روپے کی قدر میں کمی کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2 جون کو خام تیل کی عالمی قیمت 63.76 ڈالر فی بیرل تھی جو 19 جون تک بڑھ کر 76.31 ڈالر تک پہنچ گئی اور اگر تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچتی ہیں تو اس کے پاکستان کی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس صورتحال میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر 283.9 سے گر کر 292.1 تک جا سکتی ہے جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2.31 ارب ڈالر سے بڑھ کر 4.27 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔
مہنگائی کے حوالے سے رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے مجموعی مہنگائی کی شرح 0.23 فیصد سے بڑھ کر 8.67 فیصد تک جا سکتی ہے جبکہ عمومی مہنگائی 0.2 فیصد سے 8.4 فیصد تک بڑھنے کا امکان ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی مقامی قیمتوں میں 20 روپے سے 180 روپے فی لیٹر تک اضافہ ہو سکتا ہے جس سے عوام پر مالی بوجھ میں مزید اضافہ ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق پیٹرولیم لیوی کی موجودہ شرح 78 روپے فی لیٹر ہے جو تیل کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں اوسطاً 89 روپے سے 100 روپے فی لیٹر تک جا سکتی ہے۔
اس سے حکومتی آمدنی میں تو اضافہ ہوگا لیکن مہنگائی کے دباؤ سے عوام کی قوت خرید مزید متاثر ہوگی۔




















