اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہاہے کہ اسرائیل نے اس وقت حملہ کیا جب ایران کے ایٹمی مسئلے کا پرامن حل تلاش کیا جارہا تھا، ہم امید کرتے ہیں کہ سفارتی عمل اور مذاکرات دوبارہ شروع ہونگے، اسرائیلی حملوں پر ہم اپنے برادر ملک ایران سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق عاصم افتخار نے کہا کہ عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، اسرائیلی جارحیت کو روکنا سلامتی کونسل کی بنیادی ذمہ داری ہے، سلامتی کونسل ایران پر ہونے والے 13 جون کے حملوں کی مذمت کرے، آئی اے ای اے کی زیر نگرانی ایٹمی پلانٹس پر حملے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، اس حوالے سے سلامتی کونسل اپنی ہی قرار دادوں پر عمل درآمد کروائے۔
انہوں نے کہا کہ سیکرٹری جنرل کی جانب سے جنگ روکنے پر زور دینا قابل ستائش ہے، گزشتہ جمعہ کو سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس ہوا تھا، اسرائیلی حملے یو این چارٹر اور عالمی قوانین کے خلاف ہیں، پاکستان بلا جواز غیر قانونی اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتا ہے۔
چینی مندوب
سلامتی کونسل کے اجلاس میں چینی مندوب نے اظہا رخیال کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں امن کیلئے عالمی برادری کی کوششیں کو تیز کرنا ہوگا، ایران اور اسرائیل کی جنگ کے عالمی امن پربدترین اثرات ہونگے، بڑی طاقتوں کو کشیدگی بڑھانے کے بجائے امن کے قیام کیلئے اقدامات کرنے چاہیں، چین مشرق وسطیٰ میں امن کیلئے اپنے خدمات پیش کررہا ہے، ایرانی ایٹمی تنصیات پر اسرائیلی حملوں کے تباہ کن نتائج ہوسکتے ہیں۔
آئی اے ای اے
انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے کہا کہ خطے کے کئی ممالک نے ہمارے ساتھ رابطہ کرکے تشویش کا اظہار کیا ہے، اگر بجلی کی سپلائی معطل ہوئی تو ریکٹر کور میں جوہری فیول پگھل سکتا ہے، ایٹمی تابکاری پھیلنے کی صورت میں ایٹمی پلانٹس کے آس پاس آبادی کو خطرہ ہوسکتا ہے، ایسی صورتحال میں فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہوگی، اراک میں ہیوی واٹر ریکٹر زیر تعمیر تھا، اس کو تباہ کیا گیا، اراک ایٹمی پلانٹ میں کوئی ایٹمی سرگرمی نہیں ہورہی تھی، تہران میں ایڈوانس سینٹری فیوج روٹرز پلانٹ کو حملے میں نقصان پہنچا۔
انہوں نے کہا کہ آئی اے ای اے ایران کے ایٹمی تنصیبات کا باقاعدگی سے جائزہ لے رہی ہے، اسرائیلی حملوں سے ایرانی ایٹمی تنصیبات کو بجلی کی سپلائی معطل ہوئی، نطنز میں زمین کے اوپر موجود عمارت تباہ ہوئی، زیر زمین تنصیبات کو نقصان پہنچا، نطنز ایٹمی پلانٹ میں تابکاری کی سطح میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
یو این انڈر سیکرٹری
یو این انڈر سیکرٹری کا کہناتھا کہ موجودہ کشیدگی کی بنیادی وجہ ایران کا ایٹمی پروگرام ہے، اس کشیدگی کے پرامن حل کے دروازے ابھی بند نہیں ہوئے، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے نمائندے ایرانی وزیر خارجہ سے بات کر رہے ہیں، کچھ دیر بعد عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ کونسل سے خطاب کریں گے، عوامی مقامات اور طبی مراکز پر حملے عالمی قوانین کے خلاف ہے، ہر گزرتے وقت کے ساتھ عوام کیلئے خطرات بڑھتے جارہے ہیں۔
ان کا کہناتھا کہ ایران میں ایٹمی تنصیبات اور عوامی مقامات پر حملے کیے گئے، ایرانی دارالحکومت تہران کو کئی بار انخلا کی وارننگ دی گئی، اسرائیل کی فضائی حدود بند ہیں، مغربی کنارے میں کئی چیک پوائنٹس کو بند کردیا گیا ہے، دونوں طرف حملوں سے سیکڑوں عام افراد متاثر ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں خطے اور دنیا کو تباہی سے بچانے کیلئے عقلمندی سے قدم اٹھانا ہوگا، ایران نے مسلسل کہا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار بنانا نہیں چاہتا، میں جنگ روکنے اور مذاکرات کی میز پر واپسی پر زور دیتا ہوں، ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ تیزی سے پھیل رہی ہے، دونوں طرف حملوں میں عوام متاثر ہورہے ہیں، یہ کشیدگی پھیل گئی تو کسی کے قابو میں نہیں رہے گی۔





















