وسیم اکرم کا کہنا ہے کہ سکندر رضا سے نوجوان پلیئرز کو سیکھنا چاہئے، بابر اور رضوان کی کرکٹ ابھی باقی ہے، ہم سب چاہتے ہیں پاکستان اور بھارت کی کرکٹ ہو، فیصلہ حکومتوں کو کرنا ہے، یونس خان ایک بہترین کوچ ہوسکتے ہیں، میں ایک فلم کرچکا ہوں مزید نہیں کرسکتا۔
قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحت مند زندگی ضروری ہے، نوجوانوں کو فاسٹ فوڈ سے بچنا چاہئے، بچوں کو قدرتی چیزوں کی طرف لانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ سکندر رضا نے زبردست کام کیا ہے، نوجوان پلیئرز کو سکندر سے سیکھنا چاہئے، ذہنی اور جسمانی طور پر آپ کو مضبوط ہونا ہوگا، ہم امید کرتے ہیں کہ پلیئرز کا مائنڈ سیٹ تبدیل ہو، ہم بے صبر قوم ہیں، ہمیں فوری نتائج چاہئے ہوتے ہیں۔
سابق کپتان نے کہا کہ ایشیاء کپ اور ورلڈکپ میں ابھی وقت ہے، ہم سب چاہتے ہیں پاک بھارت کرکٹ ہو، پاک بھارت کرکٹ معاملے پر حکومتوں کو فیصلہ کرنا ہوگا، میں پاک بھارت کرکٹ معاملے پر زیادہ بات نہیں کہہ سکتا۔
پاکستان سپر لیگ 10 سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی اس سال نوجوان پلیئرز سامنے آئے، حسن نواز، علی رضا اور سلمان آغا جیسے پلیئرز نے پرفارم کیا۔
بنگلہ دیش کیخلاف سیریز سے متعلق سوال پر وسیم اکرم کا کہنا تھا کہ اگر دو تین میچز میں بابر، رضوان اور شاہین نہیں تو کوئی مسئلہ نہیں، بابر اور رضوان کی کرکٹ ابھی باقی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سب نے پی ایس ایل کو واپس لانے میں بہترین کام کیا، جس طرح پی سی بی اور دیگر اداروں نے کام کیا وہ شاندار ہے۔
وسیم اکرم نے قومی ٹیم کی کوچنگ کیلئے سابق اسٹار بیٹر یونس خان کو بہترین قرار دیدیا، یونس بطور کوچ کافی محنت کرتے ہیں۔
فلموں میں آئندہ اداکارہ نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے سابق کرکٹر نے کہا کہ میں ایک فلم کرچکا ہوں، مزید نہیں کرسکتا، یہ اداکاروں کا کام ہے، میں صرف کمرشلز کرتا ہوں۔




















