بھارت نے پاکستان میں بہنے والے دریائے سندھ کے پانی پر قابو پانے کے لیے دریا کا رخ موڑنے کے منصوبے پر سوچ بچار شروع کر دیاہے جبکہ پاکستان پہلے موقف واضح کر چکاہے کہ بھارت کسی صورت بھی سندھ طاس معاہد کو معطل کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق 22 اپریل کو پہلگام میں دہشتگرد حملے میں 26 افراد مارے گئے جس کا الزام بھارت نے بغیر تحقیقات پاکستان پر لگانا شروع کر دیا تاہم پاکستان نے آزادانہ تحقیقات کی پیشکش کی لیکن مودی نے جارحیت کرتے ہوئے پاکستان پر حملہ کر دیا جس کا پاکستان کی جانب سے منہ توڑ جواب دیا گیا اور 5 بھارتی طیاروں کو زمین بوس کر دیا گیا جس میں 3 رافیل بھی شامل ہیں ۔
بھارت نے 1960 کے دریائے سندھ معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کیا جس کی اہلیت وہ رکھتا ہی نہیں ہے ، یہ معاہدہ دونوں ملکوں کے درمیان دریائی پانی کی تقسیم کا ضامن ہے اور کئی جنگوں اور کشیدگی کے باوجود مؤثر انداز میں نافذ رہا۔بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستان پر حملے کے بعد دریائے چناب، جہلم اور سندھ پر منصوبوں کو تیز رفتاری سے مکمل کرنے کا حکم دیا ہے، حالانکہ یہ دریا بنیادی طور پر پاکستان کے لیے مختص ہیں۔
رنبیر نہر کو دوگنا کرنے کا منصوبہ
اہم منصوبوں میں ایک رنبیر کینال کی لمبائی کو 60 کلومیٹر سے بڑھا کر 120 کلومیٹر کرنے کا منصوبہ ہے، جو دریائے چناب سے بہتی ہے۔ بھارت اس نہر کے ذریعے پانی کا بہاؤ 40 مکعب میٹر فی سیکنڈ سے بڑھا کر 150 مکعب میٹر فی سیکنڈ تک کرنے پر غور کر رہاہے ۔
پاکستان کا ردعمل
پاکستانی حکومت نے بھارت کو ایک خط بھیجا ہے جس میں معاہدے کی معطلی کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا: پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ پاکستان کے مطابق بھارت کی طرف سے پانی کی ترسیل میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کو "اعلانِ جنگ" تصور کیا جائے گا۔
پاکستان عالمی بینک، عالمی عدالت انصاف اور مستقل ثالثی عدالت جیسے بین الاقوامی فورمز پر قانونی اقدامات کی تیاری کر رہا ہے۔



















