رات کے اندھیرے میں ایک جلتا ہوا جنگل تصور کریں۔ درخت شعلوں کی لپیٹ میں ہیں، ہوا دہک رہی ہے، پرندے اپنی آخری چیخیں مار رہے ہیں، اور زمین پر پھیلے جانور، جو کبھی زندگی کی علامت تھے، اب خاک میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ لیکن ایک طرف، ایک آدمی کھڑا ہے، ہاتھ میں پانی کی بوتل لیے، خاموش، لاتعلق، جیسے یہ آگ کسی اور کی زمین کو جلا رہی ہو۔ یہ آدمی کون ہے؟ یہ میں ہوں، یہ آپ ہیں، یہ ہم سب ہیں۔ اور یہ جلتا ہوا جنگل؟ یہ ہماری زمین ہے، جو ہر روز ایک نئی تباہی کی زد میں ہے، مگر ہم تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔
مورخ باقی بچا تو لکھے گا کہ یہاں ایک بستی تھی، جہاں زندگی ہر سال ایک نئے امتحان سے گزرتی تھی۔ کبھی بارشیں سب کچھ بہا لے جاتیں، کبھی گرمی سورج کی آگ زمین میں اتار دیتی، اور کبھی آندھیاں سب کچھ جڑ سے اکھاڑ دیتیں۔ مگر لوگ؟ لوگ ہر بار وہیں جا کر اپنے گھر بسا لیتے، وہیں خواب دیکھتے، وہیں امیدیں اگاتے، جیسے فطرت کو چیلنج دینا ان کی قسمت بن چکا ہو۔
یہ بستی کوئی خیالی کہانی نہیں، یہ ہماری زمین کی سچائی ہے۔ وہی زمین جہاں موسمیاتی تبدیلی ہر سال ہمیں ایک نئی وارننگ دیتی ہے، ایک نیا زخم لگاتی ہے، ایک نئی چیخ بلند کرتی ہے، مگر ہم؟ ہم دیوار بن کر کھڑے ہیں، نہ کچھ دیکھنے کے لیے تیار، نہ کچھ سننے پر آمادہ۔
ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن (ڈبلیو ایم او) کی تازہ رپورٹ پڑھ کر اگر زمین کے سینے میں دل ہوتا، تو وہ ٹوٹ کر بکھر چکا ہوتا۔ 1970 سے 2021 تک، 51 برسوں میں موسمیاتی آفات نے 4 ٹریلین ڈالر کا نقصان کیا، اور 20 لاکھ لاشیں چھوڑیں۔ 4 ٹریلین ڈالر کا نقصان؟ یہ محض ایک عدد نہیں، یہ ہر اس امید کی بربادی ہے، جو کسی بچے نے اپنے والدین کے ساتھ باندھی تھی، ہر اُس کھیت کی تباہی ہے، جسے ایک کسان نے اپنے خوابوں کے پانی سے سینچا تھا، اور ہر اُس گھر کی بربادی کی کتھا ہے، جہاں خوشیاں کسی موسمی آفت میں بہہ گئیں۔
یہ صرف اعدادوشمار نہیں، یہ ایک خاموش ماتم ہے، جو ہر جاندار، ہر پرندے، ہر دریا، اور ہر جنگل کی زبان پر ہے۔ یہ انسانیت کے اجتماعی جرم کا ثبوت ہیں۔ ہر ٹوٹا ہوا درخت، ہر بہہ جانے والا گاؤں، ہر ڈوبتا ہوا شہر، ایک ہی سوال پوچھتا ہے۔ کیوں؟ آخر یہ سب کچھ کیوں؟
ہم نے درختوں کو جڑ سے اکھاڑا، ندی نالوں کو زہر آلود کیا، پہاڑوں کا سینہ چاک کیا، اور فضا کو زہریلی گیسوں سے بھر دیا۔ ہم نے ترقی کے نام پر زمین کو دوزخ میں دھکیل دیا اور اب حیران ہیں کہ موسم ہماری جان کا دشمن کیوں بن چکا ہے۔
سال 2024 وہ سال بن چکا ہے جب زمین کا بخار 1.5 ڈگری سیلسیئس تک جا پہنچا۔ یہ ایک معمولی بات نہیں، یہ قیامت کی ایک چھوٹی سی جھلک ہے۔ وہ وعدہ جو صنعتی دور سے پہلے کیا گیا تھا، اب خاک میں مل چکا۔ ہم نے فضا میں کارخانوں کا دھواں چھوڑا، جنگلات کا سینہ چاک کیا، دریاؤں میں زہر گھولا، اور اب حیران ہیں کہ آسمان ہم پر قہر کیوں برسا رہا ہے
سائنسدانوں نے برسوں پہلے خبردار کیا تھا کہ اگر درجہ حرارت یہاں تک پہنچ گیا تو زمین کی حالت وہی ہو جائے گی جو کسی بیمار شخص کی ہوتی ہے، جس کا بخار کسی دوا سے کم نہ ہو رہا ہو۔ مگر ہم نے یہ انتباہ نظرانداز کردیا، کیونکہ ہماری مصروفیات زیادہ اہم تھیں۔ نئے مالز کی تعمیرات، مزید فیکٹریوں کا قیام، اور زیادہ گاڑیاں سڑکوں پر لانے کی خواہش۔
سائنسدان کہہ رہے ہیں کہ یہ محض آغاز ہے، مگر ہمارے سیاستدان؟ وہ اب بھی کوئلے کی کانوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں، وہ اب بھی گرین ہاؤس گیسز کے عوض دولت کے انبار سمیٹ رہے ہیں۔
کیا ہم نے سوچا ہے کہ جب ہماری اگلی نسل کے بچے آگ کے دریا میں پانی ڈھونڈ رہے ہوں گے، تب ہم کس منہ سے کہیں گے کہ یہ ہم نے سب کچھ ترقی کے نام پر کیا؟ کیا ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم تو بچ جائیں گے اور آنے والی نسلیں شاید مریخ پر جا بسیں گی؟
ہمیں بتایا گیا تھا کہ اگر زمین کا درجہ حرارت بڑھا تو برف پگھل جائے گی، سمندر کی سطح بلند ہو جائے گی، خشک سالی شدت اختیار کر لے گی، اور طوفان پہلے سے کہیں زیادہ منہ زور اور خطرناک ہوجائیں گے۔ مگر ہم نے کیا کیا؟ ہم نے ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر یہ بحث چھیڑ دی کہ "یہ سب تو قدرت کا نظام ہے، انسان کا اس میں کیا دخل؟"۔ اس سوچ کے نتیجے میں پھر یہ سب کچھ تو ہونا ہی تھا۔
یہ سوال اب مذاق نہیں رہا کہ موسم آخر ہمیں بخش کیوں نہیں رہا؟ گزشتہ برس ہیٹ ویو نے لاہور کو جھلسا کر رکھ دیا تھا۔ سندھ کے کسان اپنے کھیتوں کے ساتھ بہہ گئے تھے اور بنگلہ دیش کے دیہات سمندر میں ڈوب گئے تھے۔ مگر یہ سب ہمیں معمول کی خبریں لگیں، جیسے موسم کا بدلاؤ ایک عام سی بات ہو۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ واقعی معمول کی بات ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ کوئی قدرتی آفات نہیں، یہ تو انسان کے بدترین لالچ کا بھیانک نتیجہ ہے۔
ڈبلیو ایم او کہتی ہے کہ طوفان اب زیادہ طاقتور ہو رہے ہیں، گرمی کی شدت پہلے سے زیادہ جان لیوا ہو رہی ہے، بارشیں یا تو بے تحاشہ ہو رہی ہیں، یا پھر بالکل نہیں ہو رہیں۔ یعنی ہم دو انتہاؤں کے درمیان لٹک رہے ہیں۔ دوسری جانب ہم اب بھی درخت کاٹنے سے باز نہیں آرہے، ہم اب بھی زمین کے سینے میں مزید کارخانوں کا زہر بھرتے چلے جارہے ہیں۔
کیا ہم یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ فطرت ہمیشہ کی طرح ہمیں معاف کردے گی؟ یا یہ پھر اس کا انتقام ہے، جو ایک دن ہمیں جڑ سے اکھاڑ پھینکے گا؟
اقوام متحدہ کی رپورٹ کہتی ہے کہ 2027 تک 108 ممالک کے پاس ایک جدید الارم سسٹم ہوگا، جو لوگوں کو موسمی آفات سے پہلے سے خبردار کردے گا۔ مگر سوال یہ ہے کہ یہ الارم اُن دیہاتیوں تک کیسے پہنچے گا، جن کے پاس نہ انٹرنیٹ ہے، نہ ٹی وی، نہ کوئی ایسا نظام جو انہیں وقت پر آگاہ کرسکے؟ آخر یہ وارننگ کس کے لیے ہوگی؟ کیا وہ غریب کسان جو اپنے کھیتوں میں مصروف ہیں، وہ انٹرنیٹ پر وارننگ پڑھ سکیں گے؟ کیا وہ چرواہا جو بیابان میں اپنی بکریاں چرا رہا ہے، اُسے موبائل الرٹ ملے گا؟
یہ سسٹم تو صرف ان کے لیے ہے، جو پہلے سے محفوظ ہیں، جن کے پاس خبر تک رسائی ہے، جو پہلے سے خطرات سے آگاہ ہیں۔ مگر وہ کسان، جس کا سب کچھ ایک سیلاب میں بہہ جاتا ہے، اُس کے لیے یہ سسٹم محض ایک خبر سے زیادہ شاید کچھ نہیں ہوگا۔ اور شہروں میں زیادہ تر وہ بہرے بستے ہیں، جن کیلئے وارننگ ویسے بھی بیکار ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ اگر ہم نے زمین کو نہیں بچایا، تو ہم سب تباہ ہوجائیں گے۔ لیکن دنیا کے بڑے ممالک؟ وہ اب بھی طاقت کی جنگ میں مصروف ہیں۔ امریکہ اور چین اب بھی کاربن کے اخراج پر لڑرہے ہیں، بھارت اور پاکستان اب بھی سرحدوں کے تنازعات میں الجھے ہوئے ہیں، اور دنیا؟ وہ جل رہی ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے روم جل رہا تھا اور نیرو بیٹھا بنسری بجارہا تھا۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہماری سیاست زمین کے بخار سے بھی زیادہ خطرناک ہوچکی ہے؟ کیا ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری لڑائیاں فضا میں بڑھتے کاربن سے کم خطرناک ہیں؟
بین الاقوامی کانفرنسوں میں ہر ملک اپنی مظلومیت کی داستان سناتا ہے، مگر جب اپنی ذمہ داری کی بات آتی ہے، تو سب خاموش ہوجاتے ہیں۔
فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار 8 لاکھ سال کی بلند ترین سطح پر ہے۔ گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، دریا سکڑ رہے ہیں، زمین کی سانسیں اکھڑ رہی ہیں۔ مگر ہم اپنی گاڑیوں کے ایئرکنڈیشنڈ میں بیٹھ کر سب کچھ ٹھیک ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔
کیا ہم یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ یہ سب ہمیشہ رہے گا؟
لیکن یہ سب کچھ مکمل تاریکی نہیں۔ امید کی ایک کرن بلوچستان کے ایک گاؤں میں دکھائی دی، جہاں موبائل الرٹ آیا کہ سیلاب آنے والا ہے۔ لوگ فوراً بلندی کی طرف چلے گئے۔ ان کے گھر بہہ گئے، نقصان تو ہوا لیکن کوئی جان ضائع نہیں ہوئی۔
یہ الارم سسٹم کا کمال تھا۔ لیکن کیا یہ ہر جگہ ممکن ہے؟ جب تک حکومتیں سنجیدہ نہ ہوں، جب تک ہر کسان، ہر شہری، ہر مزدور کو یہ سہولت نہ ملے، تب تک یہ چند کامیابیاں صرف استثنیٰ رہیں گی، عام اصول نہیں بن سکیں گی۔
سوچیے! ایک ایسی دنیا کا تصور کریں، جہاں درخت سایہ دیتے ہوں، ٹھنڈے دریا بہتے ہوں، اور ہوا صاف ہو۔ جہاں ہمارے بچے ہم سے سوال نہ کریں کہ "جب زمین چیخ رہی تھی، تو تم خاموش کیوں تھے؟"۔
لیکن یہ خواب تب تک حقیقت نہیں بن سکتا، جب تک ہم یہ نہ سمجھیں کہ زمین کوئی ورثہ نہیں، بلکہ ایک قرض ہے، جو ہمیں اگلی نسل کو اسی حالت میں واپس کرنا ہے، جیسے ہمیں ملا تھا۔
ورنہ ایک دن جب زمین آخری سانسیں لے رہی ہوگی، جب دریا ریت میں بدل چکے ہوں گے، جب درختوں کی جگہ کنکریٹ کے شہر ہوں گے، اور جب ہمارا آسمان ہمیشہ کے لیے دھوئیں میں لپٹا ہوگا، جب ہر جانب اگ کے دریا بہہ رہے ہوں گے اور زبانیں حلق سے لٹک رہی ہوں گی، تب ہماری اگلی نسلیں ہماری قبروں پر آکر فاتحہ نہیں پڑیں گی بلکہ ایک ہی سوال کریں گی۔
"جب چیخنے کا وقت تھا، تو تم نے اپنے ہونٹ کیوں سی لیے تھے؟"
تعارف: اس تحریر کے مصنف مصطفیٰ صفدر بیگ پیشے کے اعتبار سے صحافی ہیں اور آج کل ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز سے وابستہ ہیں ، انہیں x.com پر فالو کیا جاسکتا ہے.