ذرا آنکھیں بند کریں اور ایک ایسا منظر تصور کریں جہاں زمین پیاسی ہو، درختوں کے ہرے بھرے چہرے زرد پڑ چکے ہوں، دریا کی گود میں سر رکھے لہریں بے سدھ پڑی ہوں، اور ہوائیں بین کر رہی ہوں کہ کبھی یہاں چشمے پھوٹتے تھے، ندیاں بہتی تھیں، جھرنوں کا شور تھا، زندگی رقص کرتی تھی اور کھلیانوں میں ہریالی قہقہے لگاتی تھی۔ مگر اب؟ اب صرف بنجر زمین ہے، خشک لب ہیں، اور ایک ایسی پیاس ہے جو تاریخ میں پہلی بار پانی کے ہوتے ہوئے بھی بجھ نہیں رہی۔
یہ کوئی دیومالائی کہانی نہیں، یہ خدانخواستہ پاکستان کے مستقبل کی ایک بھیانک تصویر ہوسکتی ہے۔ وہی پاکستان جہاں دریاؤں کی روانی میں چاندی کی مانند چمکتا پانی بہا کرتا تھا، جہاں کھیتوں میں پانی کی فراوانی دیکھ کر کسانوں کے دل جھوم اٹھتے تھے۔ مگر آج؟ آج وہی پانی زخم بن چکا ہے۔ ایک ایسا زخم جو ہر سال ساڑھے تین کروڑ ایکڑ فٹ پانی کے ساتھ اور گہرا ہوتا چلا جارہا ہے۔ یہ پانی، جو ہماری زندگی تھا، آج سمندر کے سپرد ہو رہا ہے، جیسے ہماری عقل پر پردہ پڑ چکا ہو، جیسے ہم نے فیصلہ کر لیا ہو کہ ہمیں پیاسے مرنا ہے۔
ماہرین چیخ چیخ کر کہتے ہیں کہ پاکستان کی زمین ہر سال 65 ارب کیوبک فٹ پانی نگل جاتی ہے، لیکن ہم نے آج تک اسے محفوظ کرنے کی کوئی تدبیر نہیں کی۔ 2024 میں بارشوں میں 24 فیصد اضافہ ہوا، مگر کیا ہم نے اس میں سے ایک بوند بھی بچائی؟ نہیں، ہم نے تو اسے نالیوں میں بہا دیا، گٹروں میں ضائع کر دیا، سڑکوں پر دھول میں ملا دیا۔ اور جب آخری قطرہ بھی ضائع ہو چکا ہو، تب جا کر ہم ہاتھ ملتے ہیں، پانی کے لیے فریاد کرتے ہیں، مگر ہماری فریاد کا کوئی جواب نہیں آتا۔
یہ کوئی عام مسئلہ نہیں، یہ ہمارے وجود کا سوال ہے۔ آج منگلا ڈیم کا سینہ خشک ہو چکا ہے، تربیلا ڈیم کی سانسیں اکھڑ چکی ہیں، اور چشموں کی آنکھوں میں آنسو تک باقی نہیں رہے۔ یہ ڈیم محض کنکریٹ کے بند نہیں تھے، یہ پاکستان کے پھیپھڑے تھے، جو آکسیجن کی بجائے اب گرد و غبار سے بھر چکے ہیں۔ مگر ہم؟ ہم ان کے خشک سینے دیکھ کر بھی بے حسی کی تصویر بنے بیٹھے ہیں، جیسے یہ ہمارا مسئلہ ہی نہ ہو، جیسے یہ زمین کسی اور کی ہو، جیسے یہاں پانی کی بجائے پیاس اگتی ہو۔
یہ کہانی صرف ڈیموں اور دریاؤں کی نہیں، یہ کہانی ایک ایسے کسان کی بھی ہے، جس کا کنواں بے وفا ثابت ہوا، جو ریت سے بھر گیا، جس کے پانی نے زمین چھوڑ دی۔ وہ کسان، جو سونے جیسی مٹی پر کھڑا ہے، مگر اپنی بیٹی کے سوال پر گونگا ہو جاتا ہے: "ابا، ہمارے درخت کیوں مر رہے ہیں؟" اس سوال پر بیچارہ کسان کیا جواب دے؟ کیا کہے کہ یہ درخت پانی کو ترس کر مرگئے؟ یا یہ بتائے کہ ان کی موت کے ذمہ دار وہ حکمران ہیں جنہوں نے ڈیم بنانے کی بجائے سیاست کے محلات تعمیر کیے؟
یہ کوئی اکیلی کہانی نہیں۔ پورے پنجاب، سندھ، بلوچستان کی یہی رام لیلا ہے۔ ہر جگہ زمین چیخ رہی ہے، پکاری رہی ہے۔ العطش، العطش، "مجھے پانی دو، مجھے پانی دو"۔ لیکن ہم؟ ہم اپنے ائیرکنڈیشنڈ گھروں میں بیٹھے مصنوعی باد نسیم کے جھونکوں پر مطمعن ہیں، اور کہیں واٹر کولر کی باد صبا پر اکتفا کیے بیٹھے ہیں۔
یہ مسئلہ صرف کھیتوں کا نہیں، شہروں کا بھی ہے۔ کراچی کو دیکھیے، جہاں سالانہ 6.87 انچ بارش ہوتی ہے، مگر یہ پانی کہاں جاتا ہے؟ گندے نالوں میں، کوڑے کے ڈھیروں میں۔ لاہور میں 37 انچ بارش ہوتی ہے، مگر وہاں کے نوجوان پانی کی بوتل خریدنے کے لیے لمبی قطاروں میں کھڑے ہوتے ہیں۔ اسلام آباد، جو پہاڑوں کا دل ہے، جہاں 31.13 انچ بارش ہوتی ہے، مگر وہاں بھی پانی ناپید ہوتا چلا جارہا ہے۔ اور ہم؟ ہم اپنی اس بدانتظامی پر فخر سے سینہ تان کر کہتے ہیں کہ ہم ایک ترقی یافتہ ملک ہیں۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہماری ترقی صرف سڑکوں، پلوں اور شاپنگ مالز تک محدود ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں بارش کا ہر قطرہ محفوظ کیا جاتا ہے، مگر ہمارے ہاں پانی بھی سیاست کا شکار ہو چکا ہے۔ کالا باغ ڈیم کو ہی دیکھ لیں، جو پچاس برسوں سے صرف ایک "بحث" بنا ہوا ہے۔ سندھ کے سیاستدان کہتے ہیں کہ یہ ہمارے لیے خطرہ ہے، پنجاب کے راہنما کہتے ہیں کہ یہ ہماری بقا ہے۔ لیکن حقیقت کیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ سیاستدانوں کے لیے پانی سے زیادہ ان کے ووٹ اہم ہیں، وہ جانتے ہیں کہ اگر پانی کا مسئلہ حل ہوگیا تو ان کی سیاست ختم ہوجائے گی۔
اس المیے کا سب سے خوفناک پہلو یہ ہے کہ زمینی پانی کی سطح ہر سال ایک میٹر نیچے دھنس رہی ہے۔ ایک میٹر! یہ کوئی معمولی فاصلہ نہیں، یہ ہماری زندگی اور سانسوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج ہے۔ 2025 تک شہری علاقوں میں پانی کی طلب 10 ملین ایکڑ فٹ تک پہنچ جائے گی، مگر ہم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟ کیا ہم نے کوئی نئے ذخائر بنائے؟ کیا ہم نے کوئی پالیسی بنائی؟ کیا ہم نے پانی کے تحفظ کے لیے کچھ کیا؟ نہیں۔ ہم بس ایک دوسرے پر الزام لگا رہے ہیں، بحث کر رہے ہیں، کانفرنسیں کر رہے ہیں، مگر عملی قدم اٹھانے کے لیے کوئی تیار نہیں۔
مگر ہر کہانی کے آخر میں امید کی ایک کرن ضرور ہوتی ہے، اور اس اندھیری سرنگ میں وہ کرن چولستان کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں چمک رہی ہے، جہاں لوگوں نے خود اپنے ہاتھوں سے پانی کے ذخیرے بنانے شروع کردیے ہیں، جہاں بارش کے قطروں کو سمیٹا جارہا ہے، جہاں کھیت ہرے بھرے ہورہے ہیں اور کنویں پانی سے لبریز رہنا سیکھ رہے ہیں۔ یہ لوگ کسی حکومت کا انتظار نہیں کرتے، یہ کسی سیاستدان کی تقریر پر بھروسہ نہیں کرتے، یہ اپنے ہاتھوں کی محنت پر یقین رکھتے ہیں۔
یہی وہ راستہ ہے جس پر ہمیں چلنا ہوگا۔ ہمیں اپنے گھروں کی چھتوں پر پانی کے ذخیرے بنانے ہوں گے، ہمیں چھوٹے چھوٹے ڈیم بنانے ہوں گے، ہمیں اپنے دریاؤں کو بچانے کے لیے سیاست سے اوپر اٹھنا ہوگا۔ یہ کوئی خواب نہیں، یہ وہ حقیقت ہے جسے ہم نے خود اپنانا ہے، ورنہ وہ دن دور نہیں جب ہماری پیاسی نسلیں ہمیں کوسیں گی، جب ہماری قبریں بھی خشک ہوں گی، جب ہماری پیاسی ہڈیاں تاریخ کو بتائیں گی کہ ہم نے موت کو خود دعوت دی تھی۔ جب ہماری تاریخ میں ہماری بے حسی کا نوحہ لکھا جائے گا۔
سوچیے، کہیں بہت دیر نہ ہو جائے۔
اس تحریر کے مصنف مصطفیٰ صفدر بیگ پیشے کے اعتبار سے صحافی ہیں اور آج کل ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز سے وابستہ ہیں ، انہیں x.com پر فالو کیا جاسکتا ہے۔