سوویت یونین میں امریکی سفارت خانے کے سینئر سفارت کار جارج ایف کینن (George F. Kennan) نے 22 فروری 1946 کو ماسکو سے واشنگٹن ایک خفیہ سفارتی مراسلہ بھیجا جسے "لانگ ٹیلیگرام" (Long Telegram) مرسلہ کہا جاتا ہے۔
یہ پیغام تقریباً 8,000 الفاظ پر مشتمل تھا جو سیدھا امریکی صدر ہیری ٹرومین کے پاس پہنچ گیا کینن نے خفیہ پیغام میں کہا کہ سوویت یونین کبھی بھی امریکہ کے ساتھ پرامن تعلقات نہیں رکھے گا کیونکہ اس کی بنیاد کمیونزم اور مغربی سرمایہ داری کے درمیان جدوجہد پر ہے۔
سوویت قیادت کو ہمیشہ ایک بیرونی دشمن کی ضرورت ہوگی تاکہ وہ اندرونی طور پر اپنا کنٹرول برقرار رکھ سکے کینن نے ہیری ٹرومین کو تجویز دی تھی کہ امریکہ کو سوویت یونین کو براہ راست فوجی جنگ میں ملوث کیے بغیر اس کے اثر و رسوخ کو روکنا چاہیے۔
اس وقت امریکہ نے ایک نئی کیمونسٹ پالیسی کی بنیاد رکھی تاکہ اس پالیسی کے تحت سوویت یونین کی توسیع کو محدود کرنے کے لیے سفارتی، اقتصادی اور فوجی اقدامات کرسکے لانگ ٹیلیگرام میں مزید لکھا تھا کہ سوویت یونین کی معیشت اور نظام اندرونی طور پر کمزور ہے اور اگر اس پر دباؤ ڈالا جائے تو یہ خودبخود ٹوٹ سکتا ہے۔
اس پالیسی کے تحت فیصلہ کیا گیا تھا کہ امریکہ یورپ کیلئے سوفٹ پالیسی اپنائے اقتصادی امداد اور پراپیگنڈا کرے،تاکہ سوویت اثر و رسوخ کو روکا جا سکے۔اس ٹیلی گرام پیغام کے بعد دنیا میں ایک بھونچال مچ گیا امریکی پالیسی ایک دم بدل گئی اور اس کے ثمرات آنا شروع ہوگئے۔
اس ٹیلیگرام پیغام نے سب سے پہلے امریکہ و سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ (Cold War) کی پالیسیوں کی بنیاد رکھی۔اس کے بعد ٹرومین ڈاکٹرائن (Truman Doctrine) اور مارشل پلان (Marshall Plan) آیا اسی پالیسی کے تحت نیٹو (NATO) اتحاد بنا اور امریکہ نے دنیا بھر میں کمیونزم کے خلاف اقدامات شروع کیے۔
ایک "نیا لانگ ٹیلیگرام" 2021 میں The Longer Telegram کے نام سے The Atlantic Council نے شائع کیا تھا، جس میں چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکنے کے لیے نئی حکمت عملی کی تجاویز دی گئی تھی۔ لیکن اس ورژن کو تبدیلی کی ضرورت پڑ گئی ہے کیونکہ دور بدل گیا ہے۔
مجھے یہ لگتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک نیا لانگ ٹیلیگرام لکھا گیا ہے 2021 میں لکھے گئے دی لانگ ٹیلیگرام کی تجویز کو اپڈیٹ کیا جاچکا ہے جس طرح سوویت یونین کا ماڈل امریکہ کے لیے خطرہ تھا، آج چین بھی اپنی معیشت، فوجی طاقت اور ٹیکنالوجی کے ذریعے ایک نئی سپر پاور کے طور پر ابھر رہا ہےجس کیلئے امریکہ یقینی طور پر نئے لانگ ٹیلی گرام کیلئے کام کر چکا ہے۔
چین "Belt and Road Initiative (BRI)" اور ڈیجیٹل یوان کے ذریعے عالمی معیشت پر اثر ڈال رہا ہے، جو امریکی ڈالر کے لیے چیلنج ہے۔اس کے بعد چین مصنوعی ذہانت (AI)، 5G، اور سیمی کنڈکٹرز میں امریکہ کو پیچھے چھوڑنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے، دونوں کو ایک دوسرے کیخلاف کامیابی کتنی ملتی ہے اس کا اندازہ لگانا قبل از وقت ہوگا۔
لیکن یہ والا لانگ ٹیلی گرام اگر روس کو چین کیخلاف کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو امریکی پالیسیز مزید پچاس سال نکال جائے گی کیونکہ مستقبل کی جنگیں سائبر اسپیس، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل کرنسی کے ذریعے لڑی جائیں گی۔امریکہ کو سائبر حملوں، جعلی خبروں (Disinformation) اور ڈیپ فیک ٹیکنالوجی سے نمٹنے کے لیے بڑی تگ ودو کرنی پڑنی ہے اس بار یہ جنگ صرف نظریاتی یا عسکری نہیں ہوگی، بلکہ معاشی، ڈیجیٹل، اور ٹیکنالوجیکل ہوں گی۔