قومی ٹیم کے کپتان محمد رضوان نے بھارت کیخلاف شکست کے تین روز کے بعد آخر کار خاموشی توڑی اور ایک مرتبہ پھر وہی اپنے روایتی جملے دہراتے ہوئے کہا کہ آپ اپنی غلطیوں سے سیکھ سکتے ہیں۔ ہم نے پچھلے چند میچوں میں غلطیاں کیں اور امید ہے کہ ہم ان سے سبق حاصل کریں گے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان آج ہونے والا چیمپئنز ٹرافی کا میچ بارش کے باعث منسوخ کر دیا گیا جس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے محمد رضوان کا کہناتھا کہ ہم چاہتے تھے کہ اپنی عوام کے سامنے اچھا کھیلیں اور بہترین کارکردگی دکھائیں۔ ہم سے بہت زیادہ توقعات وابستہ تھیں، لیکن ہم اچھا پرفارم نہیں کر سکے، جو کہ ہمارے لیے مایوس کن ہے۔
انہوں نے کہا کہ آپ اپنی غلطیوں سے سیکھ سکتے ہیں۔ ہم نے پچھلے چند میچوں میں غلطیاں کیں اور امید ہے کہ ہم ان سے سبق حاصل کریں گے۔ اب ہمارا اگلا دورہ نیوزی لینڈ ہے، اور ہم امید کرتے ہیں کہ وہاں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔ جو غلطیاں ہم نے پاکستان میں نیوزی لینڈ کے خلاف کیں، ان سے سیکھ کر نیوزی لینڈ میں بہتر کھیلیں گے۔
ان کا کہناتھا کہ جو کھلاڑی آسٹریلیا، جنوبی افریقہ اور زمبابوے میں مستقل اچھی کارکردگی دکھا رہے تھے، ان کی موجودگی سے ٹیم متحد تھی۔ لیکن جب اچانک کوئی کھلاڑی زخمی ہو جاتا ہے تو ٹیم کا توازن متاثر ہوتا ہے۔ بطور کپتان، میں اسے ایک چیلنج کے طور پر دیکھ رہا ہوں۔ ایک طرف کہا جا سکتا ہے کہ ٹیم متاثر ہوئی، لیکن یہ کوئی بہانہ نہیں ہے۔ ہاں، فخر زمان اور صائم ایوب زخمی ہو گئے، لیکن ہم اس سے سیکھیں گے۔
محمد رضوان کا کہناتھا کہ یہ ایک بہت مشکل سوال ہے۔ پاکستان کی بینچ اسٹرینتھ،،، مجھے پاکستان کپ میں کھیلنے والی پانچ ٹیمیں دیکھنی پڑیں گی۔ ہمیں مختلف شعبوں میں بہتری کی ضرورت ہے۔ اگر ہم بہتری چاہتے ہیں اور پاکستان کو اعلیٰ معیار پر لے جانا چاہتے ہیں، تو ہمیں شعور، پیشہ ورانہ مہارت اور مضبوط بنیاد کی ضرورت ہے۔ چیمپئنز کپ میں ہم نے کچھ بہتری دیکھی، لیکن مزید بہتری کی ضرورت ہے۔
کپتان نے کہا کہ ہم سب بہت مایوس ہیں، ہم یہاں اپنی قوم کے لیے کھیلنے آئے تھے، پاکستان ہماری اولین ترجیح ہے اور ہم جانتے ہیں کہ ہم سے بہت زیادہ توقعات تھیں۔ ہم اپنی کارکردگی سے افسردہ ہیں اور تسلیم کرتے ہیں کہ ہم اچھا نہیں کھیلے۔ لیکن امید ہے کہ ہم زیادہ محنت کریں گے اور ایک مضبوط کم بیک کریں گے۔