اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا ہےکہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت سے ایران کے خلاف "کام مکمل" کریں گے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا اسرائیل پہنچنے پر اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے ایک ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ 16 مہینوں کے دوران اسرائیل نے ایران کے دہشت گردی نیٹ ورک پر زبردست ضرب لگائی ہے صدر ٹرمپ کی مضبوط قیادت کے تحت مجھے کوئی شک نہیں کہ ہم اس کام کو مکمل کر سکتے ہیں اور کریں گے۔
اسرائیلی دورے پر جانے والے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ایران کو کبھی بھی جوہری طاقت بننے نہیں دیا جا سکتا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ چاہے ہم حماس کی بات کریں، حزب اللہ کی بات کریں، مغربی کنارے میں ہونے والے تشدد پر بات کریں، شام میں عدم استحکام پر بات کریں یا عراق میں ملیشیاؤں کے بارے میں بات کریں، ان سب کے پیچھے ایک مشترکہ عنصر ہے اور وہ ایران ہے۔
خیال رہے کہ امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے حال ہی میں بائیڈن اور ٹرمپ انتظامیہ کو خبردار کیا تھا کہ اسرائیل اس سال ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اہم تنصیبات پر حملہ کر سکتا ہےاسرائیل وسیع تر ہدف کے طور پر ایران میں حکومت کی تبدیلی کی کوشش بھی جاری رکھے ہوئے ہے ۔
امریکی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق اسرائیل کی جانب سے فوجی طاقت کے استعمال کا امکان صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے ساتھ امن معاہدہ کرنے کی خواہش سے متصادم ہے اور بڑے پیمانے پر ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے مشرق وسطیٰ میں ایک وسیع جنگ کے امکانات کو بڑھا سکتے ہیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا کہ ان کی اور ٹرمپ کی غزہ اور اس کے مستقبل کے حوالے سے ایک مشترکہ حکمت عملی ہے اور خبردار کیا کہ اگر تمام یرغمالیوں کو رہا نہ کیا گیا تو جہنم کے دروازے کھول دیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ماہ تجویز دی تھی کہ امریکہ غزہ کا کنٹرول سنبھال لے اور فلسطینیوں کو مستقل طور پر اس تباہ شدہ علاقے سے باہر منتقل کر دے، جس پر عرب ممالک سمیت کئی ممالک کا شدید ردعمل سامنے آیا۔
روبیو نے اس منصوبے کے حوالے سے کہا کہ یہ بہت سے لوگوں کے لیے حیران کن اور چونکا دینے والا ہو سکتا ہے لیکن جو کچھ بھی جاری ہے وہ ایسے ہی چلتا نہیں رہ سکتا جہاں ہم بار بار ایک ہی مقام پر واپس آ جاتے ہیں۔