پاکستان میں صرف بارہ ماہ کےعرصےمیں ایک سو بیس سےزائد اصلاحات نافذکردی گئیں،شہباز شریف حکومت کی اصلاحات کی یہ رفتاربےمثال ہے،ورلڈاکنامک فورم کےکنٹری پارٹنرمشعل نےپاکستان ریفارمز رپورٹ دو ہزار پچیس جاری کردی گئی۔
مشعل کی رپورٹ میں سرمایہ کاری ماحول کی بہتری کیلئےایس آئی ایف سی کےکردارکی تعریف کی گئی،پالیسی سازی میں بہتری کوپاک فوج کےادارہ جاتی تعاون کانتیجہ قراردیاگیا،رپورٹ میں کہاگیا ہےکہ مستقبل کی حکمت عملی وضع کرنے کےلئےشراکت داروں کی شمولیت،شفافیت اورمعلومات تک رسائی انتہائی اہم ہے۔
ایس آئی ایف سی کی بدولت سرمایہ کاری ماحول میں بہتری آئی،اسی نےملک کو ڈیفالٹ سے بچانے کیلئے استحکام دیا،ڈالراسمگلنگ اورافغان ٹرانزٹ ٹریڈ کیخلاف کریک ڈاون سےپاکستان کی معاشی ترقی کے امکانات بڑھ گئے۔
مشعل کی رپورٹ میں کہاگیاہےکہ پاکستان اس وقت غیرمعمولی تبدیلیوں کےعمل سےگزررہا ہے۔شہباز شریف حکومت کی مارچ 2024 سےجنوری 2025 تک کی گئی وسیع اصلاحات اس تبدیلی کی بنیاد ہیں۔
شہبازحکومت کی اصلاحات کی اِس رفتارکی مثال نہیں ملتی،اخراجات میں کمی کیلئےڈیڑھ لاکھ آسامیاں ختم کی گئیں،معاشی شرح نمومیں اضافہ ہوا اور زرمبادلہ کےذخائر میں استحکام آیا،دسمبر میں مہنگائی 28 فیصد سے کم ہو کر 4.1 فیصد پر آگئی،تجارتی خسارہ بھی کم ہوا ہے ۔
مشعل پاکستان کاماننا ہےکہ شہبازشریف حکومت نےسرمایہ کاری کےفروغ کے لئےبزنس سہولت سینٹرز قائم کئے،متعدد وزارتوں اورڈویژنزمیں ای آفس سسٹمز لائے گئے،قانونی و عدالتی اصلاحات کرتے ہوئے تنازعات کے تیزتصفیے کیلئے بین الاقوامی ثالثی سینٹرقائم کیا گیا،لیگل سسٹم کی ڈیجیٹائزیشن کے بعد وفاقی قوانین آن لائن دستیاب ہیں۔
سیاحت اور بزنس کے فروغ کیلئےپاکستان آمد پر ویزہ کا اجرا کیا گیا،سرکاری اداروں میں خواتین کی 33 فیصد نمائندگی پر عمل بھی کیا جا رہا ہے،رپورٹ میں انفارمیشن ، فوڈ سیکیورٹی،تعلیم کےشعبوں میں اصلاحات کا بھی ذکر ہے۔