یہ کہانی ایک چراغ کی ہے، وہی چراغ جسے آندھیوں نے بجھانے کی ٹھانی، مگر وہ ہر بار پہلے سے زیادہ روشن ہوکر اندھیروں کا سینہ چیرتا رہا۔ دسمبر کی وہ ایک سرد صبح، جب خنک ہوا کے جھونکوں میں خزاں کا نوحہ تھا اور گلیاں سائیں سائیں کر رہی تھیں، اڈیالہ جیل کے پتھرائے در و دیوار ایک زہریلے پیغام کے بوجھ تلے لرز رہے تھے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب عمران خان کی زبان سے ایک ایسا اعلان صادر ہوا، جس کی بازگشت ابھی تک وقت کی دیواروں سے ٹکرا رہی ہے۔
انہوں نے بیرونِ ملک پاکستانیوں سے کہا، "اپنی ترسیلات زر پاکستان بھجوانا روک دو!"۔
یہ ایک سیاسی چال تھی، ایک مہلک حکمتِ عملی، مگر حقیقت نے کسی اور رخ پر اپنی بانہیں پھیلادیں۔
اِس رخ پر دیکھنے کیلئے کچھ دیر کیلئے ایک ندی کا تصور کریں، جو کوہساروں کی گود سے نکلتی ہے، سنسان وادیوں میں بہتی ہے، ریگستانوں کو سیراب کرتی ہے اور زرخیز زمینوں کو زندگی بخشتی ہے۔ اس ندی میں کوئی بند نہیں، کوئی رکاوٹ نہیں، بس روانی ہے، تسلسل ہے، فراوانی ہے، اور قربانی ہے۔ یہ ندی دراصل اُن مزدوروں کے پسینے سے بنی ہے جو پردیس میں تنہائی کا کشٹ کاٹتے ہیں، مشقت کی میں چکی پیستے ہیں، اور اپنے بچوں کی مسکراہٹوں کو زندہ رکھنے کے لیے خون جلاتے ہیں۔ یہ معیشت کی نہیں، محبت کی ندی ہے۔
سیاست کے سنگدل ہاتھوں نے اس ندی کے بہاؤ کو روکنے کی کوشش کی، مگر محبت کا دریا سیاست کے بندھنوں میں نہیں بندھتا۔ سیاست تو آنی جانی شے ہے، مگر وہ بیٹا جو عرب کی تپتی ریت میں پسینہ بہا کر اپنی ماں کے لیے دوا خریدتا ہے، وہ کیسے اس سیاست کی نذر ہوجائے؟
جب اڈیالہ جیل سے بوئے سلطانی سے لبریز حکم شاہی صادر ہوا کہ "حکومت کو جھکانے کے لیے ملک میں پیسے بھیجنا بند کردو" تو سمندر پار پاکستانیوں نے جواب میں کہا
"نہیں، بالکل بھی نہیں، یعنی ایبسولیوٹلی ناٹ!"
یہ کوئی عام انکار نہ تھا، یہ اپنوں کے ساتھ ایک اعلانِ وفاداری تھا، ایک فیصلہ تھا کہ سیاست سے زیادہ اہم گھر کا چولہا ہے، بچوں کی فیس ہے، بوڑھی ماں کی دوا ہے۔
لاہور کی ایک گلی میں ایک بوڑھی عورت رہتی ہے، جس کا بیٹا دبئی میں مزدوری کرتا ہے۔ شاید جب اس نے ماں سے پوچھا ہوگا، "امی، کیا میں رقم بھیجنا روک دوں؟" تو ماں نے کانپتے ہاتھوں سے دعا دیتے ہوئے کہا ہوگا، "بیٹا، میری دوا کی فکر نہ کر، مگر تمہاری بہن کی شادی طے ہے، تمہارے بیٹے کی فیس ہے، گھر کا کرایہ بھی تو ہے"۔ تو کیا سیاست کا قد ایسے سوالوں سے بڑا ہوسکتا ہے"؟
یقینا، نہیں، ایبسولیوٹلی ناٹ
عمران خان نے سمجھا تھا کہ ترسیلات زر ایک ہتھیار ہے، اور اس ہتھیار کا کنٹرول ان کے ہاتھ میں ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ غریبوں کا سہارا ہے، اور سہارا کبھی ہتھیار نہیں بنتا۔
جب دسمبر کی ٹھٹھرتی صبح نے اس پیغام کی گونج سنی کہ "حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے پاکستان میں پیسہ بھیجنا روک دو" تو سوال یہ پیدا ہوا کہ کیا سیاست عوام کی روزی روٹی سے بڑی ہوسکتی ہے؟ کیا معیشت کو زخم دے کر کوئی سیاسی فتح ممکن ہے؟
جواب خود عوام نے دیا
عوام نے تین ارب ڈالر بھیجے، پھر تین ارب اور، اور یوں سیاست کا غرور خاک میں ملا دیا۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ نے رپورٹ دی ہے کہ عمران خان کی اپیل بری طرح ناکام ہوگئی۔ نہ صرف ترسیلات زر میں کمی نہ آئی، بلکہ مسلسل دوسرے مہینے تین ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی۔
یہی وہ لمحہ تھا جب حقیقت نے جذبات پر فتح پائی۔ عوام نے فیصلہ کیا کہ سیاست اپنی جگہ، مگر گھر کا خرچ اپنی جگہ۔ ماں کی دوا، بچوں کی تعلیم، بہن کی شادی کسی سیاسی مہم سے کم اہم نہیں ہوسکتی۔ ہرگز نہیں۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عمران خان کو اپنی اپیل کی ناکامی کا اندازہ تھا؟ کیا وہ واقعی یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ لوگ اپنی محنت کی کمائی اُن کے کسی سیاسی نعرے کی بھینٹ چڑھا دیں گے؟ اگر ایسا تھا تو یہ ان کی سیاست کی سب سے بڑی غلط فہمی تھی۔
پاکستان کی معیشت کا ستون یہی ترسیلات زر ہیں، جو سالانہ پینتیس ارب ڈالر تک جا پہنچتی ہیں۔ یہی رقم تجارتی خسارے کو کم کرتی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دیتی ہے، اور روپے کی گرتی ہوئی قدر کو تھامے رکھتی ہے۔
یہ حقیقت کسی حکومت کے آنے جانے سے نہیں بدلتی۔ یہ وہ چکی ہے جو تب تک چلتی رہتی ہے جب تک دبئی، سعودی عرب، برطانیہ اور امریکہ میں بسنے والے پاکستانی راتوں کو جاگ کر دن بناتے رہتے ہیں، مشقت کا بوجھ اٹھاتے رہتے ہیں، اور اپنے وطن کو سانس فراہم کرتے رہتے ہیں۔
یہ وہ لمحہ ہے جب عمران خان کی سیاست پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔ جو عوام کل ان کے ہر فیصلے پر لبیک کہتے تھے، آج وہ سوال کررہے ہیں، یہ سوال اگر آج نہیں، تو کل ضرور جواب مانگیں گے۔
اور سیاست میں سب سے خطرناک چیز یہی ہوتی ہے۔
وہ سوالات جو وقت کے ساتھ بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ عمران خان کی سیاست تلخ سوالات کی دہلیز پر آن پہنچی ہے، دیکھیں وہ ان سوالات کا جواب دے پاتے ہیں یا نہیں؟