ترکیہ کے صدر طیب اردوان نے سوشل میڈیا کمپنیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ایک اعلیٰ ترک عہدیدار کی جانب سے الزام عائد کیا گیا تھا کہ انسٹاگرام نے فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے سربراہ اسماعیل ہینہ کی شہادت پر تعزیتی پوسٹس کو بلاک کیا ہے جس کے بعد ترکیہ میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو بند کر دیا گیا تھا۔
پیر کو اپنے خطاب میں اسماعیل ہنیہ کے قتل کا حوالہ دیتے ہوئے اردوان نے کہا کہ ہمیں ڈیجیٹل فاشزم کا سامنا ہے جو فلسطینی شہداء کی تصاویر تک کو برداشت نہیں کرتا اور ان پر فوری پابندی لگاتا ہے۔
ترک صدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسرائیل کے ظلم کو چھپانے اور فلسطینی عوام کی آوازوں کو دبانے کے لیے ہر طرح کا سہارا لیا جا رہا ہے، خاص طور پر سوشل میڈیا کمپنیاں لفظی طور پر عسکریت پسند بن چکی ہیں۔






















