میں اکثر سوچتا ہوں کہ دنیا شاید اتنی تیزی سے بدل رہی ہے کہ ہم نوجوان تو کسی طرح ساتھ چل رہے ہیں، مگر اس دوڑ میں ہمارے کچھ بزرگ بہت پیچھے رہ رہے ہیں اور کچھ کافی آگے بھی نکل گئے ہیں۔ خاص طور پر موبائل فون اور سوشل میڈیا کے استعمال میں، میں یہ سطریں اپنے اطراف کے چند روزمرہ مناظر دیکھ کر لکھ رہا ہوں، کیونکہ یہ کہانی پاکستان کے ہزاروں گھروں کی ہے۔
ہم نے بچپن میں بزرگوں کو کتابیں پڑھتے، چائے پیتے، گھر میں حکمت آمیز گفتگو کی چاشنی گھولتے، گلی میں بیٹھ کر باتیں کرتے دیکھا تھا۔ لیکن اب ان کے ہاتھ میں کتاب کم اور موبائل زیادہ ہوتا ہے۔ بچوں کو تو ڈانٹ کر موبائل لے لیا جاتا ہے، مگر بزرگوں کو کون روکے؟ انہیں سمجھانا مشکل بھی ہے اور کہیں نہ کہیں عجیب سی جھجک بھی محسوس ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے گھروں میں بزرگوں کا بے جا سکرین ٹائم اور اس کے ذہنی و جسمانی مسائل جنم لے رہے ہیں۔
دشت صحافت میں آبلہ پائی کرتے 20 سال ہونے کو ہیں جس کی وجہ سے ٹیکنالوجی کی تھوڑی سوجھ بوجھ ہے، ہم جانتے ہیں کہ الگورتھم کیا ہوتا ہے، (الگورتھم کو ہم ”دائرے کا سفر“ بھی قرار دے سکتے ہیں کیونکہ اس کے مطابق آپ نے جو چیز ایک مرتبہ دیکھ لی اسے پسند کیا تو آپ کی نیوز فیڈ پر اس کی بھرمار ہو جائے گی الگورتھم آپ کو اس اس دائرے سے باہر نہیں نکلنے دے گا کیونکہ اسے معلوم ہے کہ آپ ناپسندیدہ ویڈیوز، خبریں دکھانے پر آپ موبائل سائیڈ پر رکھ دیں گئے) یوٹیوبر ویوز کےلئے کیسے ڈرامہ کرتے ہیں، ٹرینڈز میں کیا جھوٹ ملایا جاتا ہے۔ اس کے باوجود اکثر سوشل میڈیا پر صحیح اور غلط کی تمیز کرنے کیلئے کئی ذرائع استعمال کرنے پڑتے ہیں مگر ہمارے بزرگ سادہ دل لوگ ہیں، وہ ہر بات دل پر لے لیتے ہیں۔ انہیں نہیں معلوم کہ جو ویڈیو سب سے پہلے نظر آئے وہ ضروری نہیں سچ ہو، اور نہ ہی ہر وی لاگ کرنے والا اس شعبہ کا ماہر ہوتا ہے۔ اسی کا فائدہ اٹھا کر یوٹیوبرز اور وی لاگرز بے تحاشہ غلط معلومات پھیلا رہے ہیں جس کا سب سے زیادہ شکار وہ لوگ بن رہے ہیں جنہوں نے زندگی ٹیکنالوجی کے بغیر گزاری ہے۔
اکثریت میں ایسے لوگ ہیں جنہیں یوٹیوب پر حکیمی ٹوٹکوں کے ایسے درجنوں چینل مل گئے ہیں جن میں ہر بیماری کا علاج صرف 10 منٹ میں بتایا جاتا ہے۔ کبھی وہ لیموں شہد ملا رہے ہوں گے تو کبھی لہسن کا رس پی رہی ہوں گے، کبھی کسی نیم حکیم کے نسخے سے خود کو مزید بیمار کر لیتے ہیں۔ ڈاکٹر کہتا ہے ایک چیز استعمال کریں، مگر یوٹیوب کہتا ہے پانچ چیزیں ملائیں اور نتیجہ یہ ہے کہ اصل بیماری تو اپنی جگہ، نئے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ ذہنی الجھن، خوف، بے چینی اور مسلسل بیماری کا وہم ان کے مزاج کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔
ہمارے بزرگوں کی حالت بھی مختلف نہیں۔ کوئی سیاسی جماعت کی محبت میں ایسا گرفتار ہوا کہ ہر مخالف جماعت کی ویڈیو دیکھ کر جذباتی ہو جاتا ہے۔ وہ خود کو کبھی ”انقلابی“ سمجھتا ہے، تو دوسرے دن کے تجزیے دیکھ کر اپنا موقف بدل لیتا ہے۔ سیاست نے ان کے ذہنی سکون کو کھا لیا ہے۔ ہر روز غصہ، مایوسی اور جذباتی تھکاوٹ ان کی گفتگو سے ٹپکتی ہے۔
میں جب یہ سب دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ ہمارے پاس کم از کم ٹیکنالوجی کے استعمال کی سوجھ بوجھ تو ہے ہمیں تھوڑا بہت اندازہ ہو جاتا ہے یا نہ ہو، ہم سیکھ لیتے ہیں۔ مگر بزرگوں کےلئے یہ دنیا اچانک سامنے آگئی ہے۔ ایک ایسی دنیا جو ان کی نفسیات، ذہن اور صحت پر اثر ڈال رہی ہے۔
بظاہر یہ مسئلہ چھوٹا لگتا ہے مگر حقیقت میں یہ ہماری فیملی سسٹم، ذہنی صحت اور روزمرہ رویوں کو بدل رہا ہے۔ بزرگوں کو ضرورت ہے کہ انہیں عزت و محبت کے ساتھ سمجھایا جائے کہ موبائل مددگار چیز ہے، مگر اس کا بے تحاشہ استعمال ذہنی سکون اور جسمانی صحت کو برباد کر سکتا ہے۔ جھوٹی خبریں، سنسنی خیز ویڈیوز، سیاسی ، حکیمی ٹوٹکے اور بلا تحقیق ٹرینڈز صرف وقت نہیں کھاتے، یہ ذہن، مزاج اور زندگی بھی متاثر کرتے ہیں۔
میری رائے شاید کسی بڑے مسئلے کی طرف اشارہ نہ کرے، مگر اتنا ضرور کہتی ہے کہ ٹیکنالوجی نے ہمارے بزرگوں کو بھی اپنی گرفت میں لے لیا ہے اور اگر ہم نے محبت، سمجھ داری اور رہنمائی کے ساتھ انہیں اس دنیا میں سنبھل کر چلنے میں مدد نہ دی تو آنے والے وقت میں ذہنی اور جسمانی صحت کے مسائل مزید بڑھتے جائیں گے۔





















