گوگل نے اپنی مقبول ترین سروس گوگل میپس میں جنریٹیو آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی پر مبنی ایک نئے فیچر کا اضافہ کردیا، جس س صارفین کیلئے گوگل میپس میں سرچ اور مقامات کی تلاش کا عمل زیادہ آسان اور بہتر ہوجائے گا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق کمپنی کا کہنا ہے کہ گوگل میپس کے اس نئے فیچر کیلئے لارج لینگوئج ماڈلز کو استعمال کیا جائے گا اور یہ کسی اے آئی چیٹ بوٹ کی طرح کام کرے گا، نئے اے آئی فیچر کے ذریعے صارفین میپس سے مختلف مقامات کے بارے میں سوالات پوچھ کر جواب حاصل کرسکیں گے۔
کمپنی نے مزید کہا ہے کہ لارج لینگوئج ماڈلز میپس کا تجزیہ کرکے 25 کروڑ سے زائد مقامات کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کرسکیں گے، اسی طرح لوگوں کی آراء کو مدنظر رکھ کر یہ ماڈلز لوگوں کو سیاحت کیلئے مقامات بھی تجویز کرسکیں گے۔
گوگل کے مطابق یہ فیچر سب سے پہلے امریکا میں متعارف کرایا جا رہا ہے، البتہ دیگر ممالک میں اس کی دستیابی کے حوالے سے فی الحال کمپنی نے کچھ نہیں بتایا۔
خیال رہے کہ نومبر 2023ء میں ایک رپورٹ میں گوگل میپس میں اس طرح کا اے آئی چیٹ بوٹ متعارف کرانے کے بارے میں بتایا گیا تھا، اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ گوگل میپس کے بیٹا (beta) ورژن میں موجود کوڈ سے اے آئی چیٹ بوٹ کے اضافے کا اشارہ ملتا ہے، مگر یہ کیسے کام کریگا یہ واضح نہیں کیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق اب کمپنی نے بتایا ہے کہ جب کوئی فرد کسی مقام کے بارے میں سوال پوچھے گا تو اس کے بارے میں ذیلی سوالات بھی کرسکے گا، اے آئی بوٹ کی جانب سے فراہم کی گئی تفصیلات کو شیئر یا محفوظ کرنا بھی ممکن ہوگا، اس فیچر کو امریکا کے صارفین گوگل میپس میں لوکل گائیڈز میں جاکر استعمال کرسکتے ہیں۔
واضح رہے کہ اکتوبر 2023ء میں گوگل میپس میں اے آئی ٹیکنالوجی پر مبنی کئی فیچرز کا اضافہ کیا جاچکا ہے، جو آنیوالے مہینوں میں دیگر ممالک کے صارفین کیلئے بھی دستیاب ہوں گے۔






















