دنیا کے معروف کاروباری شخصیت اور ٹیکنالوجی ارب پتی Elon Musk دنیا کے پہلے ٹریلینئر بن گئے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق 12 جون 2026 کو ان کی خلائی اور مصنوعی ذہانت سے وابستہ کمپنی SpaceX کے حصص مارکیٹ میں آنے کے بعد ان کی مجموعی دولت تقریباً 1.26 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی۔
رپورٹس کے مطابق اسپیس ایکس کے حصص 150 ڈالر فی شیئر پر ٹریڈ ہوئے، جس کے بعد کمپنی کی مجموعی مالیت تقریباً 1.77 ٹریلین ڈالر ہو گئی۔
ایلون مسک کی مجموعی دولت میں ان کی الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی Tesla میں موجود حصص کی مالیت بھی شامل ہے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اگر ایک ٹریلین ڈالر کی رقم میں سے ایلون مسک ہر گھنٹے 10 لاکھ ڈالر خرچ کریں تو بھی یہ رقم ختم ہونے میں 114 سال سے زائد کا عرصہ درکار ہوگا۔
مزید کہا گیا ہے کہ ایلون مسک کی دولت اب دنیا کے بیشتر ممالک کی مجموعی معیشت سے بھی زیادہ ہو چکی ہے، جبکہ ان کی مجموعی دولت کئی معروف ارب پتی شخصیات کی مشترکہ دولت سے بھی بڑھ گئی ہے۔
بلوم برگ کی ایک رپورٹ کے مطابق ایلون مسک کی دولت کا بڑا حصہ مختلف کمپنیوں میں ان کے حصص کی مالیت پر مشتمل ہے، لہٰذا اس دولت کا انحصار براہ راست مارکیٹ ویلیو اور حصص کی قیمتوں پر ہے۔





















