چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے سماء سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معرکہ حق میں پاکستان کو بھارت کیخلاف تاریخی کامیابی ملی،پیپلزپارٹی کی پالیسیز اور منشور پر حکومت سے بات کرتے رہتے ہیں، بینظیرانکم سپورٹ پروگرام میں اضافہ کیا گیا،وزیراعظم کے شکرگزار ہیں، تنخواہوں اور پنشن میں اضافے پر وزیراعظم اور معاشی ٹیم کے شکرگزار ہیں۔
بلاول بھٹو کا کہناتھا کہ آئین میں موجود ہے کہ صوبے اور وفاق ایک دوسرے کو گرانٹ دے سکتے ہیں، ملکی دفاع اور سیکیورٹی کیلئے صوبوں نے فنڈز دینے کا فیصلہ کیا، صوبوں کے حقوق پر سمجھوتا نہیں کر سکتے،وسائل پر سخت مؤقف ہے،این ایف سی ایوارڈ کو جاری رکھا جائے گا، ہم کسی ایسی چیز کا ساتھ نہیں دیں گے جو پاکستان کو ون یونٹ کی طرف لے جائے، پیپلزپارٹی نے 18 ویں ترمیم منظور کرائی،این ایف سی پر کامیابی حاصل کی، ہم نے علیحدگی پرست قوتوں کی سیاست ہمیشہ کیلئے دفن کر دی۔
ان کا کہناتھا کہ ایسی کوئی ترمیم آئے جو ان قوتوں کو اسپیس دے،یہ بڑی غلطی ہو گی، ہم اپنے قومی دفاع کی ضرورت پوری کر سکتے ہیں تو کوئی دوسرا متنازع فیصلہ کیوں کیا جائے، وزیراعظم شہباز شریف اور اسحاق ڈار کا شکرگزار ہوں کہ ہمیں گلگت بلتستان میں حکومت بنانےکی دعوت دی گئی، ن لیگ نے گلگت بلتستان حکومت سازی میں ہمارے حق میں ووٹ دینے کا کہاہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا ہے چیف الیکشن کمشنر جی بی کو استعفیٰ دینا چاہیے،وزیراعظم نے کہا ہے وہ ہمارے اعتراضات دور کریں گے، جی بی میں ہمارا مینڈیٹ چوری کرنے کی کوشش کی گئی،ان کو نہیں چھوڑوں گا، گلگت بلتستان کے عوام کو حق حاکمیت اور حق روزگار دلواؤں گا۔
بلاول نے کہا کہ آزادکشمیر میں احتجاج کرنے والوں کے جو مطالبات ہیں وہ ہمارے بھی ہیں، ہم نے موجودہ بجٹ میں بھی آزادکشمیر میں سٹی اسپتال کیلئے فنڈز رکھنے کا کہا، میرپور میں ایئرپورٹ بنانے کیلئے حکومت کو درخواست کی ہے، قانون کے دائرے میں پُرامن احتجاج کریں۔
بلاول کا کہناتھا کہ ایران امریکا ثالثی کیلئے وزیراعظم اورفیلڈ مارشل کی کوششیں تاریخی ہیں، دعا ہے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی امن کیلئے کوششیں کامیاب ہوں، امریکا ایران معاہدے پر دستخط ہوئے تو یہ بہت بڑی قومی کامیابی ہوگی، امن قائم ہوگا تو ہماری معاشی مشکلات میں کمی آئے گی ۔





















