وزیر ماحولیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ دنیا کے صرف دس ممالک 70 فیصد کاربن اخراج کے ذمہ دار ہیں، مگر ماحولیاتی تبدیلی کا بوجھ دوسرے ممالک اٹھا رہے ہیں۔ جو عالمی ناانصافی کی مثال ہے۔ سینیٹر شیری رحمان کہتی ہیں پاکستان میں گرمی کی شدت پچاس ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ رہی ہے ۔ جنگوں کے اثرات سرحدوں تک محدود نہیں رہتے۔
اسلام آباد میں بریتھ پاکستان انٹرنیشنل کلائمیٹ چینج کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر ماحولیاتی تبدیلی مصدق ملک نے موسمیاتی تبدیلی کو موجودہ دور کا بڑا عالمی چیلنج قرار دیا ۔ کہا پاکستان کا کاربن اخراج ایک فیصد سے بھی کم ہے، جبکہ ہم ماحولیاتی خرابیوں سے شدید متاثرہ ممالک میں شامل ہین۔ چار بڑے سیلابوں کے دوران چار کروڑ افراد بے گھر ہوئے جبکہ جانی، مالی اور معاشی نقصانات بھی اٹھانا پڑے، جو عالمی ناانصافی کی مثال ہے۔ سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کی نہیں بلکہ موجودہ حقیقت ہے۔ کاربن اخراج اور گرین ہاؤس گیسز میں اضافہ شدید گرمی کا سبب بن رہا ہے۔ انہوں نے کہا کم اخراج کے باوجود پاکستان کلائمٹ انجسٹس کا شکار ہے جبکہ جنگوں کے ماحولیاتی اثرات کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے فضائی آلودگی اور سرحد پار آلودگی کو بھی بڑا مسئلہ قرار دیا۔ وزیر آبی وسائل معین وٹو نے کہا کہ گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں اور پانی کی دستیابی غیر یقینی ہو چکی ہے۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے بہتر انفراسٹرکچر اور پانی کے ذمہ دارانہ استعمال کی ضرورت ہے۔ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی غلام مصطفیٰ شاہ نے کہا پارلیمنٹ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے قانون سازی کر رہی ہے۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ کلائمیٹ ایمرجنسی جیسے اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ ماہرین نے زور دیا کہ پاکستان کو گرین اکانومی کی جانب تیزی سے بڑھنا ہوگا۔





















