تامل ناڈو اسمبلی انتخابات کے نتائج نے لوگوں کو حیران کر دیا، اداکار سے سیاستدان بننے والے وجے کی جماعت ’تملگا ویٹری کزگم ‘ریاست کی سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے اور کئی دہائیوں سے غالب جماعتوں کو شکست دے کر تامل ناڈو کی سیاست کا رخ ہی بدل دیا ہے۔
منگل کے روز وجے نے انتخابی کامیابی کے بعد اپنا پہلا بیان جاری کیا۔ انہوں نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر نریندر مودی کے پیغام کا جواب دیتے ہوئے تعاون اور عوامی فلاح کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیا۔
وجے نے راہول گاندھی کے پیغام کا بھی جواب دیا۔ انہوں نے لکھا کہ لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف کا فون اور نیک تمناؤں کے لیے دل سے شکریہ! ہم عوامی خدمت میں بہترین کارکردگی اور اپنی ریاست کی ثقافتی اقدار کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں، جس کے لیے اجتماعی تعاون ضروری ہے۔ سیاست سے بالاتر ہو کر ہم تامل ناڈو کے عوام کی فلاح کو ترجیح دیں گے۔
وجے کا اقتدار میں آنا ایک تاریخی لمحہ ہے، کیونکہ جون 1977 کے بعد پہلی بار تامل ناڈو میں ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے، کے غلبے سے باہر حکومت قائم ہوگی۔
ان کی کامیابی نے اس تاثر کو بھی ختم کردیا کہ اداکار سیاست میں کامیاب نہیں ہو سکتے اور وہ این ٹی راما راؤ، ایم جی رام چندرن اور جیارام جے للیتا جیسے معروف اداکار رہنماؤں کی صف میں شامل ہو گئے ہیں۔
وجے نے اپنی پہلی انتخابی مہم میں کسی بھی مرکزی یا علاقائی جماعت سے اتحاد کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ وجے کے ممکنہ طور پر تامل ناڈو کے اگلے وزیر اعلیٰ بننے کے پیش نظر، توقع ہے کہ وہ فلمی دنیا سے کچھ دوری اختیار کریں گے۔ ان کی آخری فلم جنا نایگن ابھی تک سینسر بورڈ سے منظور نہیں ہوئی اور جنوری سے تاخیر کا شکار ہے۔




















