چیئرمین نیپرا وسیم مختار کی سربراہی میں اتھارٹی نے مارچ کے ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 27 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر سماعت کی جس دورا ن بتایا گیا مارچ میں ریفرنس فیول پرائس 8.26 پیسے رہی جبکہ مارچ میں ریفرنس فیول پرائس 7.99 روپے مقرر تھی۔
حکام نے بتایا کہ قطر کے ساتھ ہمارے آر ایل این جی معاہدے ٹیک اینڈ پے پر ہیں،صارف نے سوال کیا مقامی گیس سرپلس بتائی جا رہی تھی وہ استعمال کیوں نہیں ہو رہی ؟ پاور ڈویژن حکام نے جواب دیا کہ مقامی گیس کا استعمال کیا جا رہا ہے،مقامی گیس 150 ایم ایم ایف سی ڈی سرپلس تھی،بنیادی ٹیرف میں اضافے سے متعلق خبریں بے بنیاد ہیں، بنیادی ٹیرف میں اضافے سے متعلق فیصلہ جنوری 2027 میں ہوگا،جنوری 2027 میں بھی ابھی تک کوئی اضافہ دکھائی نہیں دے رہا،ریونیو بیسڈ لوڈشیڈنگ نہ کی جائے تو سرکلر ڈیٹ میں 4 سے 5 سو ارب اضافہ ہوگا۔
نیپرا اتھارٹی نے کہا کہ ریوینو بیسڈ لوڈشیڈنگ غیر قانونی ہے،صحافی نے سوال کیا کہ اتھارٹی ریونیو بیسڈ لوڈشیڈنگ کو غیر قانونی کہہ رہی ہے،پاور ڈویژن دھڑلے سے بیٹھ کر ریونیو بیسڈ لوڈشیڈنگ کرنے کا کہہ رہا ہے،اتھارٹی بتا سکتی ہے کہ قانون کدھر ہے ؟ نیپرا اتھارٹی اور پاور ڈویژن قانون سے متعلق سوال پر خاموش رہے، کوئی جواب نہیں دیا۔
ممبر نیپرا ٓمنہ احمد نے کہا کہ نقصان کی بنیاد پر لوڈ شیڈنگ غیر قانونی ہے، حکام سی پی پی اے نے کہا کہ درآمدی آر ایل این جی سے بجلی فی یونٹ 40روپے میں پڑے گی ،فرنس آئل سے فی یونٹ60روپے میں پڑ رہا ہے ،ایل این جی کے سپاٹ کارگو کی خریداری سے فیول کاسٹ زیادہ نہیں بڑھے گی۔






















