وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نےملک میں ایچ آئی وی کیسز کی وبا پھیلنے کی خبروں کی تردید کر دی۔
اسلام آبادمیں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نےبتایاکہ ملک میں ایچ آئی وی کی اسکریننگ کی تعدادمیں نمایاں اضافہ کیاجس کےبعد 80 ہزارسےزائد مثبت ایچ آئی وی کیسزسامنے آئےمگرکوئی بھی وبائی صورتحال نہیں۔
اسلام آباد،تونسہ اورکراچی کے بچوں میں ایچ آئی وی کامرض سرنج کےدوبارہ استعمال کی وجہ سے ہوا تھا، اسی وجہ سے اب چھوٹی سرنجوں کے دوبارہ استعمال پر بھی پابندی کا قانون بنادیا ہے۔
مصطفیٰ کمال نےکہا قوم کو امراض سےمتعلق حقائق سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں،2020 میں 49 سینٹرتھے، 37 ہزار944 کی اسکریننگ ہوئی،2020 میں 6 ہزار 910 افراد میں ایچ آئی وی مثبت نکلا تھا،2025 میں 97 سینٹر کر دیئے،3 لاکھ 74 ہزار126 اسکریننگ ہوئیں،2025 میں ایچ آئی وی کے 14 ہزار 182 کیسز سامنےآئے۔
وزیرصحت نےکہا رجسٹرڈ مریضوں میں سے61 ہزارمریضوں کا علاج جاری ہے،ایچ آئی اوی لاعلاج مرض نہیں ہے،یہ قابل علاج ہے،مریض دوا لے رہا ہو تو ایچ آئی وی مرض مزید نہیں پھیلتا۔





















