نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ ہم کسی تصادم کے حق میں نہیں، پاکستان دل وجان سے ایران کے ساتھ ہے۔
سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بتایا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ کرچکا ۔ ایران سے کہا اسے مد نظر رکھا جائے۔ سب نے دیکھا سب سے کم ری ایکشن سعودی عرب اور عمان کیخلاف ہوا ہے۔
نائب وزیراعظم نے موقف سمجھنے پر ایرانی قیادت سے اظہار تشکر کیا۔ بولے مذاکرات میں مثبت پیش رفت کے باوجود ایران پرحملہ کیا گیا ۔ ہم نے ہر فورم پر تہران کے حق میں آواز بلند کی ۔ بیک گراؤنڈ جو کچھ کرسکتے تھے وہ کرتے رہے ۔
انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل نے بھی اپنی سطح پر بہت کوششیں کیں ۔ رابطے اب بھی جاری ہیں ۔ ملک کے اندر معاملے کو غلط رنگ دینا ٹھیک نہیں ۔ اپوزیشن لیڈر اور پارلیمانی رہنماؤں کو کل ان کیمرہ بریفنگ دی جائے گی۔
واضح رہے کہ حکومت نے ایران پر حملے سے پیدا صورتحال پر قومی اسمبلی اور سینیٹ کے پارلیمانی لیڈروں کواعتماد میں لینے کا فیصلہ کرلیا۔ وزیراعظم نے پارلیمانی لیڈران کو مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے، ان کیمرہ بریفنگ کل ساڑھے 11 بجے ہوگی،بریفنگ کیلئے کوآرڈینیشن کی ذمہ داری رانا ثناءاللہ کو دی گئی ہے۔
یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی شروع کی گئی جنگ اب پورے مشرق وسطیٰ میں پھیل چکی ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے بحرین میں امریکی اڈے کو نشانہ بنایا۔ 20 پر بیس ڈرونز اور 3 میزائل داغ دیے۔ امریکی سینٹ کام نے پاسداران انقلاب کے کنٹرول اینڈ کمانڈر سنٹر کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی میزائل لانچنگ سائٹس اور دیگر اہداف کو بھی نشانہ بنایا۔
سعودی عرب میں امریکی سفارتخانے پر بھی ڈرون حملہ کیا گیا۔ اُدھر اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بھی حملوں کا تبادلہ ہورہا ہے۔ اسرائیلی طیاروں نے بیروت پر شدید بمباری کی۔ لبانن کے 59 قصبوں کو انخلا کی وارننگ جاری کردی۔ حزب اللہ نے بھی اسرائیلی ایئربیس پر ڈرون حملے کیے۔





















