سینیٹ میں تمام جماعتوں کی جانب سے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کی مذمت کی گئی، جے یو آئی اور پیپلزپارٹی نے خطے میں صورت حال پر ملکی حکمت عملی طے کرنے کیلئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کر دیا ۔
پیپلزپارٹی کی شیری رحمان نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایران کے معاملے پر اگر مگر سے کام نہیں لیا ۔ صدر اور وزیراعظم نے ایران پر حملے کی شدید مذمت کی ۔ پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر علی ظفر نے کہا کہ ایران کے روحانی پیشوا اور ان کے خاندان کو شہید کیا گیا ۔ امریکا نے ایک خطرناک راستہ چنا ۔ سویلین قیادت کو مارنا جنگی جرم ہے ۔ امریکا اور اسرائیل کا ایران میں رجیم چینج کا منصوبہ کامیاب نہیں ہو گا ۔
جے یو آئی کے سینیٹر مولانا عطا الرحمان نے مطالبہ کیا کہ موجودہ حالات میں فیصلہ کے لئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے ۔ پیپلزپارٹی کے سینٹر بلال مندوخیل نے بھی اس مطالبے کی تائید کی اور کہا پارلیمان کا ان کیمرہ اجلاس بلا کر حکومتی پالیسی بتائی جائے ۔
حکومتی سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا اسرائیل اسلامی ممالک کو لڑانا اور پوری دنیا کو آگ لگانا چاہتا ہے ۔ شاید وہ مسجد اقصیٰ پر بھی فالس فلیگ آپریشن کرے ۔ سینیٹ نے دانش یونیورسٹی اسلام آباد بل اور پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اتھارٹی ترمیمی بل کی منظوری دے دی ۔ نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی ترمیمی بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ۔ سینیٹ کا اجلاس کل دوپہر دو بجے تک ملتوی کردیا گیا۔





















