علی خامنہ ای 1939ء میں ایران کے شہر مشہد میں ایک مقامی مذہبی رہنما،جواد خامنہ ای کے گھر میں پیدا ہوئے اور انہوں نے نسبتاً غربت میں پرورش پائی،وہ اپنے بھائی بہنوں میں دوسرے نمبر پر تھے۔
علی خامنہ ای ،آیت اللہ خمینی کےقریبی ساتھی تھے،انقلاب ایران کے بعد وہ ایران میں تیزی سے ابھرے
اکتوبر 1981میں وہ ایران کےصدرمنتخب ہوئے،آیت اللہ خامنہ ای کےدور صدارت میں ایران عراق جنگ ہوئی۔
1989 میں آیت اللہ خمینی کے انتقال کےبعدایران کےسپریم لیڈربنے، ملک کی اعلیٰ ترین اتھارٹی،ریاستی پالیسی میں فیصلہ کن کرداراداکیا،ایران کا جوہری پروگرام آیت اللہ خامنہ ای کی قیادت کااہم موضوع تھا،
2015 میں انہوں نے6عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدہ کیا،2018میں امریکا کےجوہری معاہدے سے علیحدگی کےبعد کشیدگی بڑھی۔
خامنہ ای نےلبنان میں حزب اللہ اورفلسطینی گروہوں کی حمایت کی،آیت اللہ خامنہ ای نےشام کی خانہ جنگی میں حکومت کا ساتھ دیا،معاشی دباؤاورسیاسی بےچینی کےباعث مظاہروں کاسامنا کیا،2024میں امریکا،اسرائیل نے ایران پرحملہ کیا،خامنہ ای محفوظ رہے۔






















