سپریم کورٹ میں وزیرِاعظم شہباز شریف کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کے خلاف دس ارب روپے ہرجانہ کیس کی سماعت ہو ئی جس دوران عدالت نے ٹرائل کورٹ کو کارروائی سے روک دیا، وزیراعظم شہباز شریف کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا گیا۔
جسٹس عائشہ ملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر حکمِ امتناع جاری کیا۔ عدالت نے وزیرِاعظم شہباز شریف کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کو جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کا عندیہ دیا۔سماعت کے دوران جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ دوسری طرف سے آج کوئی پیش نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا یہ نظرثانی درخواست ہے اور کیس کے سابقہ فیصلے میں ان کا اختلافی نوٹ موجود تھا، جبکہ دو جج صاحبان نے حقِ دفاع ختم کرنے کے فیصلے کو درست قرار دیا تھا۔بانی پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹرائل کورٹ نے عدم پیروی کی بنیاد پر حقِ دفاع ختم کیا، حالانکہ بانی پی ٹی آئی کی ٹانگ میں گولی لگی تھی جس کے باعث وہ پیش نہ ہوسکے۔
انہوں نے بتایا کہ مقدمے میں گواہوں کے بیانات بھی ریکارڈ ہو رہے ہیں۔جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ یہ کتنے ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ ہے؟ جس پر وکیل نے بتایا کہ ان کے مؤکل کے خلاف دس ارب روپے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ٹرائل کورٹ نے حقِ دفاع ختم کرنے سے پہلے دو مرتبہ زخمی ہونے کو تسلیم کیا، زخمی ہونا تسلیم کرنے کے بعد حقِ دفاع کیسے ختم کیا جاسکتا ہے؟۔ عدالت نے قرار دیا کہ مقدمے کے دوسرے فریق کو نوٹس جاری کیا جا رہا ہے۔





















