پاکستان ہاکی فیڈریشن بحران میں نئے حقائق سامنے آگئے، پاکستان اسپورٹس بورڈ نے ٹیم مینجمنٹ کیخلاف مزید کارروائی کا عندیہ دے دیا۔ ویزا تاخیر، اضافی اخراجات اور پینتیس کروڑ کے بجٹ پر بھی سوالات اٹھ گئے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اسپورٹس بورڈ قومی ہاکی ٹیم کے معاملات سے متعلق اپنی تفصیلی رپورٹ وزیراعظم کو بھجوائے گا۔ پی ایس بی کا مؤقف ہے کہ اس نے تمام مالی ذمہ داریاں بروقت ادا کیں، تاہم سیزن سیون کے فیز ٹو میں شرکت کے حوالے سے انتظامی بے ضابطگیاں فیڈریشن کی سطح پر سامنے آئیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیم کی روانگی دو فروری کو طے تھی لیکن ویزا درخواستیں تاخیر اور غلط معلومات کے باعث منسوخ ہوئیں۔ پی ایس بی کی مداخلت پر معاملہ آسٹریلوی ہائی کمیشن کے ساتھ اٹھایا گیا اور ویزے دوبارہ جمع کرائے گئے، جس کے بعد قومی ٹیم پانچ فروری کو روانہ ہو کر سات فروری کو ہوبارٹ پہنچی۔
ایئر ٹکٹ کی اصل لاگت ستائیس ملین روپے سے زائد پی ایس بی نے ادا کی جبکہ ویزا غلطیوں کے باعث اضافی نو اعشاریہ سات ملین روپے کا بوجھ بھی برداشت کرنا پڑا۔ پی ایس بی نے سابقہ بے ضابطگیوں کے پیش نظر اجلاسوں میں براہ راست فنڈز روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریکارڈ کے مطابق سابقہ فنڈز تنخواہوں، سفری اخراجات، ڈیلی الاؤنس اور فیول پر خرچ ہوئے۔





















