امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں شریک تمام شرکا کا شکریہ ادا کرتا ہوں، امریکا غزہ کیلئے 10ارب ڈالر دے گا, میں نے 8جنگیں رکوائیں، ان جنگوں میں بہت مشکلیں جنگیں بھی تھیں، فیلڈ مارشل ایک عظیم شخص اور بہت بڑے فائٹر ہیں، میں شہباز شریف کو بہت پسند کرتا ہوں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مارکوروبیو ،اسٹیو وٹکوف نے جیرڈکشنر نے غزہ کیلئے بہت کام کیا، بورڈ آف پیس میں بہت سے پیارے ملک شامل ہیں، پائیدار امن کیلئے بورڈ آف پیس اہم فورم ہے، ہم سب قیام امن کیلئے کوششیں کررہے ہیں، ہمیں امن کیلئے مزید محنت سے کام کرنا ہوگا، اہداف کے حصول کیلئے بورڈ آف پیس کے علاوہ کوئی فورم نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا میں نویں جنگ بھی ختم کرانے کے قریب ہیں،کچھ جنگیں 35،کچھ 32سال سے جاری تھیں،دنیا میں امن سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں، آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان امن معاہدہ ہوا۔
ان کا کہناتھا کہ میں نے پاکستان اوربھارت کے درمیان جنگ رکوائی، پاک بھارت جنگ میں 11طیارے گرائے گئے، پاکستان کے فیلڈ مارشل عظیم شخص ہیں، فیلڈ مارشل بہت بڑے فائٹر ہیں، میں شہبازشریف کو بہت پسند کرتا ہوں، جنگ کے دوران ڈیل کرانا مشکل کام ہوتا ہے، پاک بھارت جنگ کے دوران وزیراعظم شہباشریف سے تعلقات مضبوط ہوئے۔
امریکی صدر کا کہناتھا کہ پاک بھارت جنگ میں بہت شدت آرہی تھی، میں نے اپنا کردار ادا کراتے ہوئے جنگ کو رکوایا، بھارتی وزیراعظم سے کہا جنگ نہ روکی تو بھاری ٹیرف لگاؤں گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وٹکوف نے غزہ میں امن کے حصول کے لیے غیر معمولی کام کیا، اسٹیووٹکوف کو ہر ملک پسند کرتاہے، میرے چینی صدر شی سے بہترین تعلقات ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ اچھی بات چل رہی ہے،ایرانی نمائندوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں،میں اپریل میں چین کا دورہ بھی کروں گا۔ دیکھتے ہیں اسرائیل اور ایران کے درمیان معاملات کہاں جاتے ہیں،ایران کے ساتھ نتیجہ خیزڈیل چاہتے ہیں ورنہ بہت برا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ حماس کو غیرمسلح ہونا ہوگا ، حماس کو معاہدے کی پاسداری کرنی چاہیے، غزہ کی جنگ ختم ہو چکی ہے، حماس نے ہتھیار حوالے نہ کئے تو سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
ان کا کہناتھا کہ ایران خطے میں جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا،خطے کے امن کیلئے ایران کو جوہری ہتھیاروں کا حصول روکنا ہوگا۔
غزہ بورڈ آف پیس کا اجلاس ڈونلڈ ٹرمپ انسٹی ٹیوٹ آف پیس میں ہورہا ہے جہاں سعودی وزیر خارجہ، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، وزیراعظم شہباز شریف ، انڈونیشیا،قطر، یواے ای ،آذربائیجان اور غزہ بورڈ آف پیس کے دیگر رکن ممالک بھی اجلاس میں شریک ہیں۔
امریکی صدر غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں پہنچے اور بورڈ کے تمام اراکین سے مصافحہ کیا جبکہ گروپ فوٹو بھی بنوائی ۔
وزیراعظم شہباز شریف غزہ امن بورڈ کے اجلاس میں شریک ہیں جہاں وہ پاکستان کا موقف پیش کریں گے ۔





















