پشاور ہائی کورٹ میں تحریک انصاف احتجاج کے باعث روڈ بندش کے خلاف کیس میں آئی جی خیبر پختونخوا چیف سیکرٹری عدالت میں پیش ہوگئے۔ عدالت نے آئی خیبر پختونخوا کو فوری احتجاج کرنے والوں کے خلاف کاروائی کر کے روڈ کھلوانے کی ہدایت کر دی۔
پی ٹی آئی احتجاج کے باعث سڑکوں کی بندش کے خلاف کیس کی سماعت پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس اعجاز انور کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔ آئی جی، چیف سیکرٹری اور ایڈووکیٹ جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔ جسٹس اعجاز انور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ روڈ کہاں پربند ہے، خیبر پختونخوا سے کوئی باہرنہیں جا سکتا۔
جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ ایک طرف دہشت گردی تو دوسری جانب احتجاج لوگوں کی نقل وحرکت نہیں ہو رہی۔ جہاں آپ نے ایکش لینا ہوتا ہے توتھری ایم پی او میں کاروائی کرتے ہیں، جہاں نہیں وہاں کچھ نہیں کرتے۔ صوبے کے لوگ اپنے ہی حکمرانوں کواحتجاج روڈ بندش پر گالیاں دے رہے ہیں۔
آئی جی خیبر پختونخوا نے عدالت کا آگاہ کیا کہ روڈ موٹر وے کی اطراف میں بند ہے۔ 16 جگہوں پر روڈ بند تھے، جس میں کچھ جگہوں پر کھلوائے گئے۔ مظاہرین منتشر ہو جاتے ہیں پھر بعد میں آ جاتے ہیں۔ ہمیں دو دن کا ٹائم دے ہم سب کلئیر کر دیں گے۔
پشاور ہائی کورٹ نے آئی جی خیبر پختونخوا کو سڑکیں بند کرنے والے احتجاجی مظاہرین کے خلاف سخت کاروائی کرتے ہوئے فوری روڈ کھلوانے کی ہدایت کر دی۔ عدالت نے آئی جی سے روپرٹ طلب کرتے ہوئے کل تک سماعت ملتوی کر دی۔






















