وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کے معاملے پر پروپیگنڈا کیا گیا، بلیم گیم کھیلی گئی اگر سیاسی انتقام لینا ہوتا تو جیل میں ہی سختیاں کرتے۔
لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا کہ محموداچکزئی کے خط لکھنے سے پہلے ہی اپوزیشن سے رابطے میں تھے، ہم نے کہا تھا اپنے ایک ڈاکٹر کا بھی نام دے دیں، معائنے کیلئے سرکاری اور پرائیوٹ ڈاکٹرز کا انتخاب کیا، بانی کے ذاتی معالجین نے کہا بہترین علاج ہو رہاہے۔
وزیرداخلہ نے کہا کہ بانی کے معالجین نےکہا کہ ہم علاج کررہے ہوتے تب بھی یہی کرتے، اپوزیشن رہنماؤں نے بھی بریفنگ کے بعد اطمیمنان کا اظہارکیا، بانی کی آنکھ کے معاملے پر بھرپور سیاست کھیلی گئی، معائنے کے وقت بانی کے کزن قاسم کا نام دیا گیا، پھر کہا گیا بانی کواسپتال منتقل کیا جائے۔ علیمہ خان سارےمعاملات کو ویٹیو کردیتی تھیں۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ آج سڑکیں بند کرکے لوگوں کوتکلیف پہنچائی جارہی ہیں، کچھ لوگ بانی کی صحت سے زیادہ اپنی سیاست کیلئے فکر مند ہیں۔
علی امین گنڈاپور کے بیان پر وزیرداخلہ محسن نقوی نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ میں ہمیشہ کہتا ہوں مذاکرات سے ہرمسئلہ ہوتاہے، وزیراعظم بھی پہلے دن سے مذاکرات کی بات کر رہے ہیں، سمجھدار لوگوں کی سُنی جاتی توپی ٹی آئی آج اِس حال میں نہ ہوتی، حکومت اور پی ٹی آئی کےدرمیان اِس وقت کوئی بات نہیں ہورہی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگرکسی کو احتجاج یا چڑھائی کاشوق ہے تو نتائج کاسامناکرے گا، اسلام آبادکےریڈزون میں کسی قسم کی شرپسندی کی اجازت نہیں، راستےبند کرنے والے پھر دیکھ لیں،ہمیں بڑی کلیئرہدایات ہیں، عدالتی فیصلے پر عملدرآمد یقینی بنائیں گے۔
این آر او سے متعلق سوال پر محسن نقوی نے کہا کہ بات چیت میرا سبجیکٹ نہیں ہے، میرےپاس خط ہے اپوزیشن لیڈر کا وہ پڑھ لیں، خط پڑھ کرپتہ چل جائے گا وہ کیامانگ رہے ہیں۔
وفاقی وزیرداخلہ نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے 100 فیصد بھارت ملوث ہے، دہشت گردی میں بھارت کےملوث ہونے پر دُنیا کو بھی سمجھانا ہوگا،خیبر پختونخوا پولیس لڑرہی ہے لیکن سیاسی قیادت کو بھی آن بورڈ ہونا پڑے گا۔






















