صدر مملکت آصف علی زرداری نے چینی سال کے آغاز پر عوامی جمہوریہ چین کے عوام، حکومت اور قیادت کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہےکہ پاکستان اور چین کے باہمی احترام، اعتماد اور ایک مشترک وژن کی بنیاد پر تذویراتی شراکتی تعاون پر مبنی تعلقات ہیں، ہماری دوستی بدلتے عالمی حالات میں بھی مضبوط رہی ہے، پاکستان ون چائنا پالیسی اور چین مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے اصولی موقف کی حمایت کرتا ہے۔
ایوان صدر سے نئے چینی سال 2026 کے آغاز پر جاری اپنے پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ نیا چینی سال گھوڑے سے منسوب ہے جو خوش بختی اور روایتی طور پر توانائی، ترقی اور ثابت قدمی کی علامت سمجھا جاتا ہے، یہ خوبیاں نئی شروعات اور آگے بڑھنے کے اس جذبے کو ظاہر کرتی ہیں جو اس تہوار کی پہچان ہے اور یہ پاکستان اور چین کی دیرینہ دوستی کی عکاسی بھی کرتی ہیں۔صدر مملکت نے کہا کہ سال 2026 دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ بھی ہے جو 1951 میں قائم ہوئے۔
صدر مملکت نے کہا کہ سات دہائیوں سے زائد عرصے میں پاکستان اور چین نے باہمی احترام، اعتماد اور ایک مشترک وژن کی بنیاد پر ہر موسم کے تذویراتی شراکتی تعاون پر مبنی تعلقات قائم کئے ہیں، یہ فولادی دوستی بدلتے عالمی حالات میں بھی مضبوط رہی ہے اور پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کی آزمودہ دوستی کی جڑیں تاریخ میں موجود ہیں، شہید ذوالفقار علی بھٹو وہ آخری عالمی رہنما تھے جنہوں نے چیئرمین ماؤ زے دُونگ سے ملاقات کی، یہ لمحہ اس اعتماد اور تذویراتی دانشمندی کی علامت تھا جو آج تک ہمارے تعلقات کی رہنمائی کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین نے ہمیشہ ایک دوسرے کے بنیادی قومی مفادات کے امور پر حمایت کی ہے، پاکستان مستقل طور پر ون چائنا پالیسی کی حمایت کرتا رہا ہے جبکہ چین نے بھی اصولی مؤقف کے ساتھ پاکستان کی حمایت کی ہے جس میں مسئلہ جموں و کشمیر بھی شامل ہےاور اس کے پُرامن حل پر زور دیا ہے جو اقوامِ متحدہ کے منشور اور متعلقہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہو۔
صدر مملکت نے کہا کہ 2008 سے 2013 تک اپنے پہلے صدارتی دور میں مجھے متعدد بار چین کا دورہ کرنے کا موقع ملا جو اس عرصے میں چین جانے والے اکثر عالمی رہنماؤں سے زیادہ تھے، ان بار بار ملاقاتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ چین کے ساتھ تعلقات کو ترجیح دی ہے اور اس سے باہمی اعتماد اور طویل مدتی تعاون مزید مضبوط ہوا۔
آصف علی زرداری نے نے کہا کہ چین کے صدر شی جن پنگ کی دور اندیش قیادت میں چین امن، ترقی اور کثیر الجہتی تعاون کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، ان کی قیادت نے پاک چین دوستی کو مزید مضبوط کیا ہے اور مشترکہ ترقی اور استحکام کے لئے تعاون کو فروغ دیا ہے، پاکستان علاقائی اور عالمی امور میں چین کے مثبت اور تعمیری کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے جن میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے بانی رکن کے طور پر اس کی حیثیت بھی شامل ہے، چین کے وژن اور مسلسل کوششوں سے ایس سی او کو مکالمے، مشترکہ سلامتی اور معاشی تعاون کے مؤثر پلیٹ فارم کے طور پر مضبوط بنانے میں مدد ملی ہے جس سے خطے میں استحکام اور یوریشیا میں روابط کو فروغ ملا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں بھی قریبی تعاون موجود ہے جس نے خطے میں امن اور استحکام میں اہم کردار ادا کیا ہے، یہ شراکت داری ہمارے مشترکہ مفادات کے تحفظ اور ایک محفوظ اور مستحکم علاقائی ماحول کے فروغ کے عزم کی عکاس ہے،چین پاکستان اقتصادی راہداری بیلٹ اینڈ روڈ فریم ورک کے تحت ایک اہم منصوبہ ہے جو بنیادی ڈھانچے کی ترقی، صنعتی فروغ اور دونوں ممالک کے درمیان روابط کو آگے بڑھا رہا ہے، اب سی پیک اپنے اگلے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے اور پاکستان باہمی خوشحالی کے لئے اس کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے لئے پُرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال مجھے دو مرتبہ چین کا دورہ کرنے کا اعزاز حاصل ہوا جس سے امن اور تعاون کے لئے ہمارے مشترکہ عزم کی توثیق ہوئی۔ ان دوروں نے ہمارے باہمی تزویراتی اعتماد کو مزید مضبوط کیا اور معیشت، ٹیکنالوجی اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع پیدا کئے۔ انہوں نے کہا کہ میں مستقبل قریب میں دوبارہ چین کا دورہ کرنے کا خواہاں ہوں تاکہ اس مثبت پیشرفت کو مزید آگے بڑھایا جا سکے۔
صدر مملکت نے کہا کہ جیسا کہ میں کئی مواقع پر کہہ چکا ہوں ،پاکستان اور چین آزمودہ اور فولادی بھائی ہیں جو خوشیوں اور مشکل وقت دونوں میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں، خلوص اور باہمی حمایت پر مبنی یہ تعلق دونوں قوموں کے لئے طاقت کا ذریعہ ہے،چینی نئے سال کے اس مبارک موقع پر میں چینی عوام کے لئے صحت، خوشی اور مسلسل کامیابی کی دعا کرتا ہوں۔





















