عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے مجوزہ بجلی ٹیرف میں تبدیلیاں اس طرح کی جانی چاہئیں کہ انکا بوجھ متوسط اور کم آمدن والے طبقے پر نہ پڑے۔
آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان میں پاورسیکٹر اصلاحات درست سمت میں گامزن ہیں، جن میں بجلی کی تقسیم اور پیداوار کرنے والی کمپنیوں کی نجکاری، جبکہ ٹرانسمیشن سسٹم کی تنظیمِ نو شامل ہے۔
عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے مطابق 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی پروگرام کے تحت اصلاحات درست سمت میں ہیں، اور پاور سیکٹر کے واجبات طے شدہ اہداف کے اندر ہیں۔
عالمی مالیاتی ادارے کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کاجائزہ لے رہے ہیں کہ مجوزہ ٹیرف ترامیم ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی پروگرام سے ہم آہنگ ہیں یا نہیں،اور انکے ملکی معیشت، مہنگائی اور مالی استحکام پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔
آئی ایم ایف کےمطابق بجلی ٹیرف میں ممکنہ رد و بدل پر بات چیت جاری ہے،جبکہ ان معاملات پر مزید مذاکرات مارچ کے آخر میں ہونے والے ای ایف ایف جائزہ اجلاس میں ہونگے۔




















