لاہور میں بسنت فیسٹیول کا آغاز ہوگیا،شہر بھر میں چھتوں پر پتنگ بازی اور ہلہ گلہ جاری ہے،ڈھول کی تھاپ پر بوکاٹا کی صدائیں گونج رہی ہیں۔
پنجاب کی وزیراطلاعات عظمیٰ بخاری نے رات 12 بجے پتنگ اڑا کربسنت فیسٹیول کاباقاعدہ آغازکیا۔وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بسنت کے آغاز پرسوشل میڈیا پر ویڈیو پوسٹ کی،جس میں لوگ پتنگ اڑاتے نظر آرہےہیں،بسنت کے باقاعدہ آغاز سےکچھ وقت پہلےوزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نےلاہور کےمختلف علاقوں کا دورہ بھی کیا۔
لاہوریوں رات بھر پتنگ اڑانے کے بعد مختلف ناشتہ پوائنٹس پر پُہنچ گئے،ناشتے پر ہاتھ صاف کرنے کے بعد اب موچی گیٹ پر نوجوان بڑی تعداد میں پتنگ بازی کے سامان کی خریداری کے لیے پہنچے ہیں۔
بسنت کا مزہ دوبالا کرنے کے لیے خواتین بھی پیچھے نہ رہیں،کئی خواتین خود بھی پتنگ ہاتھوں میں لیے چھتوں پر موجود ہیں، باقی خواتین نے ہاتھوں پر مہندی سجائی رکھی ہے،رنگ برنگے لباس پہنے ہیں اور مزیدار پکوان سے بسنت کا استقبال کر رہی ہیں۔
لاہورکی سڑکیں اورگلیاں اس وقت پتنگوں سےسجی ہوئی ہیں،پتنگ اورڈورمہنگی ہونے کے باوجود شہر بھر میں نایاب ہو چکی ہے،بسنت فیسٹیول کے لیےشہربھر میں مختلف روٹس پر خصوصی بس سروس چلانے کافیصلہ کیاگیا ہے،روڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کےمطابق پورا شہر بسنت کےموقع پرخصوصی ٹرانسپورٹ سے کورہوگا،پنجاب حکومت کی جانب سے بسنت فیسٹیول تین روز تک جاری رہے گا۔
لاہور میں بسنت کی خوشیاں ایک بار پھر حادثات کی نذر ہو گئیں،رات بارہ بجے کے بعد پتنگ بازی کے دوران پیش آنے والے مختلف واقعات میں چھے افراد زخمی اور ایک جاں بحق ہو گیا۔




















