وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے سماء نیوز کے پروگرام ’ ندیم ملک لائیو‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ حملوں میں سیکیورٹی فورسز،سویلنیزکا نقصان بہت کم ہوا، صوبےمیں صورتحال کنٹرول میں ہے، سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں دہشتگرد فوری بھاگ جاتے ہیں، نوشکی اورکوئٹہ میں کومبنگ آپریشن جاری ہیں۔
تفصیلات کے مطابق سرفراز بگٹی کا کہناتھا کہ سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کا پیچھا کرنے کا فیصلہ کیا ہے، دہشتگردوں کی ہلاکتوں کی تعداد 171 ہو گئی ہے، ہم یہاں جھوٹ بولیں تو یہ مناسب نہیں ہے، 60، 70کی دہائی میں نواب خیربخش مری کا اسکول آف تھاٹ تھا کہ شورش کے ذریعےملک توڑاجائے، سیاسی طور پر بلوچستان کو جو حقوق ملے وہ پارلیمنٹ کے ذریعے ملے، شرپسندی کے باعث کچھ بھی حاصل نہیں ہوا، بلوچوں کو ایک لاحاصل جنگ میں ڈالا گیا ہے، بلوچستان بھی مستحکم ہونےلگا،چیزیں بہتر ہونے لگیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان معاشی طور پر مستحکم ہونے لگا، بھارت سے جنگ کے بعد پاکستان کو عزت ملی، بھارت نے پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی ناکام کوشش کی، دہشتگرد کوئٹہ کے ریڈزون،وزیراعلیٰ ہاؤس میں گھسنا چاہتے تھے، دہشتگردوں نے کئی مقامات پر لوگوں کو مغوی بنانے کی کوشش کی، بلوچوں کو لاحاصل جنگ کی طرف دھکیلا گیا، پچھلے پورے سال میں تقریباً 1 ہزار دہشتگرد مارے گئے، 99فیصدمقامی لوگ انٹیلی جنس کےساتھ تھے۔
وزیراعلیٰ سرفرازبگٹی کا کہناتھا کہ مقامی لوگ اپنی ریاست اورفورسز کےساتھ ہیں، بلوچستان کےلوگ وطن کےساتھ ہیں اورامن چاہتےہیں، مخصوص لوگ اشتعال انگیزی کو ریشلائز کر کے بینیفشری بننا چاہتے ہیں، 30سال سے بلوچستان میں محرومی کا بیانیہ دیا گیا، مین اسٹریم میڈیا،انٹیلی جنس ایجنسیوں کو بھی کنفیوژ کیا گیا، دہشتگرد ریڈ زون، وزیراعلیٰ ہاؤس میں گھسنا چاہتے تھے۔
ان کا کہناتھا کہ سیاسی قیادت اور جماعتوں کو بھی کنفیوژ کیا گیا ہے، مجھےاس کنفیوژن پر تشویش ہے، ہمیں ہزار سال بھی لڑنا پڑا تو لڑیں گے، ہندوستان کے دہشتگردی میں ملوث ہونے کے معاملے پرکوئی دورائےنہیں، را دہشتگردوں کو فنڈنگ کرتی ہے اور تربیت بھی دیتی ہے، خطے میں موجود دہشتگرد گروپوں کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں، دنیا اور افغانستان کو سوچنا پڑے گا کب تک ایسے چلتا رہے گا، اس کا سدباب ہم نے ہی کرناہے، اچھی گورننس،اینٹی کرپشن سے ہمیں ہی فائدہ ہو گا۔
بلوچستان میں ہم نے 3200 بند اسکول کھلوائے، آج بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں ڈاکٹر موجود ہیں، لاپتاا فراد کے معاملے پر ہمیشہ سیاست کی گئی، لاپتا افراد کا معاملہ ریاست کیخلاف پروپیگنڈا ٹول کے طور پر استعمال کیا گیا، نوجوانوں کو منتفر کرنےکی منظم سازش کی جا رہی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آریونیورسٹیز،کالجزمیں جا رہے ہیں، گرتی ساکھ کیلئے ڈرامہ رچایا گیا اور حملے کیے گئے، حملہ ہونے سے پہلے ہی سوشل میڈیا پرآجاتا ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستاندہشتگردوں کےہینڈلرزیورپ،افغانستان،بھارت میں بیٹھےہیں، وزارت خارجہ کو ڈوزیئر دنیا کے ساتھ شیئر کرنے چاہئیں، ملک میں سیاسی عمل جاری،سیاسی جماعتوں سے رابطے میں ہیں، مذاکرات کے بعد مائنز اینڈمنرل بل پاس کیا، این ایف سی کے مسئلے پرتمام سیاسی قیادت کو خط لکھے، بی ایل اے کا مسئلہ فوجی طور پر حل ہونا چاہیے، پبلک سروس کمیشن میں اے آئی کے پی ایچ ڈیزلیں گے، مذاکرات کیلئے حکومت کے دروازے ہمیشہ کھلےہیں، وزیراعظم کوقومی سطح پر مذاکرات کیلئے تجویز دوں گا۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کے دوران سیکیورٹی فورسز پر تنقید شروع کر دی جاتی ہے، بشیر زیب اور دیگرد ہشتگرد پارلیمنٹ میں اپنابیانیہ نہیں دے سکتے، خیبرپختونخوامیں لاپتا افراد کی تعداد بلوچستان سے زیادہ ہیں، نام نہاد قوم پرستی کا بلوچستان سےکوئی تعلق نہیں، بلوچوں کی روایت اور تاریخ میں خواتین اور بچوں کو مارنا نہیں ہے، جب حکومت سنبھالی تھی تو بلوچستان بھرکی ہائی ویز بند رہتی تھیں، سڑکیں کھلوانے کا وعدہ کیا تھا،آج ایک بھی سڑک بند نہیں ہوتی، بلوچستان کے عوام سے وعدہ ہے دہشتگردی سے چھٹکارا دلوائیں گے۔





















