تحریر؛ سعدیہ عبید خان
ہر سال دو فروری،آب گاہوں کے عالمی دن کے طورپر منایا جاتا ہے۔ آب گاہیں دراصل مختلف قسم کی واٹر باڈیز ہیں جس میں کوئی نم یا گیلی جگہ یا ایسی جگہ جہاں کھڑا پانی ہو اور وہ نمی تک محدود رہتا ہو جہاں خاص قسم کےپودوں اور جانوروں کی زندگیاں پھلتی پھولتی ہوں اسے یونی سسٹم کے طور پر مانا جاتا ہے پوری دنیا کا۔ 12.1 ملین اسکوار کلومیٹر ،یعنی 63 ملین ہیکٹرز پوری زمین کا نو فیصد ٓآب گاہوں پر مشتمل ہے وہ 3.4 بلین ڈالرز کما کر دیتی ہے۔
آب گاہیں جنگلات کی نسبت تین گنا زیادہ تیزی سےمعدوم ہورہی ہیں۔خاص زندگیوں کوتحفظ فراہم کرنے والی آب گاہیں اب ناکافی پانی کے خطرے سے دوچار ہیں۔ماحول پر کام کرنے والی صحافی تنظیم گرین میڈیا انیشیٹو نے اس دن کی مناسبت سے ہالیجی جھیل کو لاحق خطرات کا جائزہ لینے کے لیے اکاؤنٹیبلٹی لیب پاکستان کی ٹیم کے ساتھ یہاں کا فیلڈ ٹرپ کیا۔
کولونیل دور میں تیا ر ہونے والی ٹھٹھہ کی ہالیجی جھیل انسانی ہاتھوں کا شاہکار کہلای جاتی ہے۔ پیالہ نما یہ جھیل بنیادی طور پر پتھریلی ہے۔ یہ ایک گڑھا تھا، جسے مصنوعی جھیل میں تبدیل کیا گیا۔ کراچی سے ۴۳ کلومیٹر دور واقع اس جھیل کا پانی انتہای خوبصورت نیلا ہوا کرتا تھا۔ جس طرح درختوں کو پھیپھڑے کہا جاتا ہے اسی طرح جھیلیں گردوں کی طرح کام کرتی ہیں۔ تازہ پانی کی کمی نے اس کی خوبصورتی مانند کر دی ہے اور سرد ممالک خصوصا سائبیریا سے آنے والے پرندے روٹھ گے۔
اس جھیل کا کسٹوڈین وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ ہےجس کے نگران سہیل کھوسہ ہیں،" ان کےمطابق موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر اس جھیل میں پانی کی قلت ہے۔محدود وساءل کے باوجود ہم ہر سال ہجرت کر کے آنے والے پرندوں کی گنتی کرتے ہیں اورہماری کوشش ہے کہ ہم ہالیجی کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں۔لیکن پرندوں کے لیے خوراک کی کمی بھی ایک اہم مسلہ ہے۔یہ جھیل ایک زمانے میں مہاجر پرندوں کی آماج گاہ تھی۔
اس کی سطح سایبیریا سے آنےوالے پرندوں سے ڈھک جاتی تھی۔ اکتوبر سے فروری تک یہ پرندے یہاں قیام کرتے تھے۔ اسی لیے اسے پروٹیکٹیڈ ایریا قرار دیا گیا تھا۔ پاکستان میں تقریبا 450 آب گاہیں ہیں، لیکن رپورٹ شدہ 19 رامسار ویٹ لینڈ ہیں۔جن میں نو سندھ میں ہیں۔ باسی گدلے پانی میں تین سو سے چارسو کے قریب مگرمچھوں کی آبادی ہے،اس کے یرقان زدہ پانی میں پرندے پر نہیں مارتے۔اگر اس میں دوبارہ میٹھے پانی کی آ مد ہو تو پھر اس کی حالت میں بہتری آٓسکے گی۔ ہالیجی جھیل میں جام واہ کینال ، ڈاؤن اسٹریم سے پانی چھوڑا جاتا تھا اور پھر کراچی کو پانی کی سپلای کی جاتی تھی،اسٹیل ملز کی ضروریات کو پورا کرتی تھی۔"
اداروں پر بات کرتے ہوے ایکولوجسٹ اور ویٹ لینڈ پالیسی سازرفیع الحق نے بتایا کہ جب ہم کچھ سالوں پہلے یہاں آتے تھے پرندوں کے جھنڈ دیکھا کرتے تھے۔ اصل مسلہ پانی کی کمی کا ہے۔ٓآب گاہ میں ایک ریسورس پر کیء ادارے موجود ہیں۔ کسی ادارے کاکام یہاں سے پانی کی نکاسی اور کسی کی ذمہ داری اس کی صحت کو برقرار رکھنا ہے۔
یہ ایکو سسٹم اس ملک کا مستقبل ہے جو بہت سے مسایل سے بچا سکتا ہے۔ یہ ایک نیچرل ڈیم ہے۔ ہم ان قدرتی آب گاہوں کی حفاظت نہ کر کےمصنوعی ذخیروں کی طرف جاتے ہیں جو صریحا نا انصافی ہے۔سندھ کے پاس نو آب گاہیں ہیں اور ان کی انتہای اہمیت ہے۔ پرندوں کے شکار پر یہاں پابندی ہے اور اس عمل میں مقامی لوگوں کا دخل نہ ہونے کے برابر ہے۔ تازہ پانی کی کمی نے یہاں سپلای کے نظام کو بھی متاثر کیا ہے۔۔
اس جھیل کا ایک بڑا کارنامہ گدلے پانی کو شفاف بنانے کا بھی ہے۔ یہاں کراچی کو سپلای سے پہلے ٹریٹ نہیں کیا جاتا تھا۔دریا کا گدلا پانی اس میں آکے نیلا ہو جاتا ہے یہ ویٹ لینڈ کی سب سے بڑی خدمت ہے اگرایک گیلن پانی پہ ایک روپیہ خرچ ہو تو 600 ملین گیلن کا مطلب ہے کہ یہ ویٹ لینڈ مفت یہ سروس دے رہی ہے تو 600 ملین روپے پانی کو صاف کرنے کے لیے لگیں گے اگر ایک روپیہ بھی خرچ کیا جائے اس کے صاف کرنے پہ۔ ابھی پچھلے دنوں بہت بارشیں ہوئیں تو اس کے لیول پر فرق ٓآیا تھا۔۔ زرایع کے مطابق میٹھے پانی کا فراوانی سے یہاں مچھلی کا وافر شکار ملتا تھا اور ایک دن میں دس سے پندرہ کلو مچھلی پکڑی جاتی تھی، لیکن چونکہ یہ پروٹیکٹیڈ ایریا ہے اس لیے ماہی گیری کبھی بھی پسندیدہ مشغلہ نہیں رہی۔
معروف ماحولیاتی صحافی شبینہ فراز نے بتایا کہ آب گاہوں کی بقا کا دارومدار تازہ پانی کی مسلسل آمد پرہوتا ہے۔ایک اندازے کے مطابق دو ہزارکیوسک پانی اس جھیل کی زندگی لوٹا سکتا ہے۔تازہ پانی کی بدولت پانی میں ٓآکسیجن کی حل پزیری چارفیصد سے زیادہ ہوگی۔پانی کی غیر منصفانہ تقسیم بھی ایک اہم سبب ہے،انڈس ڈیلٹا میں ٓآخری گاوں شیخ کیریو میں پانی کی عدم دستیابی اس کا بین ثبوت ہے۔
اقوام متحدہ کے 90 فیصد اراکین یعنی172 ممالک رامسار کنونشن کے ممبر ہیں، رامسار کنونشن میں پانی کی حفاظت،فوڈ اورفوڈ سیفٹی،آفات سے بچاو کی خدمات،بائیوڈاؤسٹی ،ماحولیاتی استحکام،واٹر پیوریفیکیشن اینڈ سپلائی،فلڈ پروٹیکشن،کاربن اسٹوریج اف فوڈ اینڈ رومٹیریل ریکری ایشن اینڈ ٹورازم پر زور دیا جاتا ہے۔





















