ملکۂ کوہسار مری میں برفانی طوفان کا سلسلہ تھم گیا ہے تاہم ہلکی پھلکی برفباری بدستور جاری ہے۔ انتظامیہ کے مطابق اب تک مری میں ساڑھے تین فٹ تک برف پڑ چکی ہے جس کے باعث معمولاتِ زندگی متاثر ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ مری میں پھنسے سیاحوں کو نکالنے کا عمل آدھا مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ مختلف شاہراہوں اور رابطہ سڑکوں سے برف ہٹا دی گئی ہے تاکہ ٹریفک کی روانی بحال رہے۔
انتظامیہ نے مزید سیاحوں کے مری میں داخلے پر پابندی برقرار رکھی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بچا جا سکے۔ شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔
ملکہ کوہسار میں شدید برفباری کے باعث اسلام آباد انتظامیہ نے مری جانے والے راستے صبح سے بند کر رکھے ہیں، مری ایکسپریس وے کے داخلے راستے پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگی ہوئی ہیں۔
ترجمان موٹروے پولیس
ترجمان موٹروے پولیس کے مطابق مری میں شدید برف باری جاری ہے جس کے پیش نظر ایکسپریس وے پر موٹروے پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے ، موٹروے پولیس کے حکام این 75 پر جگہ جگہ مسافروں کی رہنمائی کیلئے موجود ہیں، برف ہٹانےوالی مشینری اور آلات بھی اپنے کام میں مصروف عمل ہیں، شہری موسمی حالات کے پیش نظر مری کے غیرضروری سفر سے گریز کریں۔
وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری
وزیراطلاعات پنجاب نے مری کا سفر کرنے والے شہریوں کیلئے پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ مری میں تمام ہوٹل فل ہو چکے ہیں اور برفباری بہت زیادہ ہو رہی ہے، گنجائش سے زیادہ گاڑیاں داخل ہوچکی ہیں،گاڑیوں کی بھی گنجائش نہیں، سیاحوں سے گزارش ہے مری کا سفر کرنے سے گریز کریں، سیاحوں کی حفاظت حکومت کی پہلی ترجیح ہے، مری میں سیاحوں کی بڑی تعداد پہلےسے موجود ہے۔






















