بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں زہریلا پانی پینے سے ہلاکتوں اور بیماریوں کے واقعات میں تشویشناک اضافہ سامنے آیا ہے،اندور میں اب تک 25 افراد کی ہلاکت کے بعد مہو میں بھی زہریلا پانی پینے سے 24 افراد یرقان میں مبتلاہوگئے۔
حکام کےمطابق متاثرہ افراد میں پیٹ درد، قے اور دیگرسنگین علامات ظاہر ہوئیں، جس کے بعد فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔ انتظامیہ نے علاقے میں پانی کے نمونے حاصل کر کے جانچ کا عمل شروع کر دیا ہے جبکہ مشتبہ پانی کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی ہے
انتظامیہ نے علاقے میں پانی کی سپلائی کا معائنہ شروع کر دیا ہے اور پانی کے نمونے لیبارٹری جانچ کے لیے بھجوا دیے گئے ہیں،جبکہ شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیارکرنے اور اُبالا ہوا پانی استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ کچھ جگہوں پرپانی کی پائپ لائنیں گندی نالیوں اورسیوریج کےقریب سے گزرتی ہیں،اُنہوں نے کئی بار گندے پانی کی شکایت کی ہےمگر حکومت کی جانب سے تاحال کوئی کارروائی نہیں کی گئی
جبکہ مدھیہ پردیش حکومت کا کہنا ہے کہ صاف پانی کی فراہمی اور صورتحال سےنمٹنے کے لیے 1.21 سے زائد رقم خرچ کی جاچکی ہے،تاہم اس کےباوجود واقعات کاسامنے آنامتعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔






















