ملک کے بالائی علاقوں میں شدید برفباری سے نظام زندگی مفلوج ہوگیا اور متعدد مقامات پر سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے سیاح محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔
آزاد کشمیر بھر میں بارش اور برفباری کا سلسلہ جاری ہے۔ شدید برفباری سے نظام زندگی مفلوج ہونے لگا۔ بالائی علاقوں میں رابطہ سڑکیں بند ہونا شروع ہوگئی۔ کئی سالوں بعد مظفرآباد شہر میں بھی ہلکی برفباری ہوئی۔ بجلی اور فون کا نظام متاثر ہوگیا۔
برفباری کا 20 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا
ضلع پونچھ میں برفباری کا سلسلہ جاری ہے بالائی سیاحتی مقامات تولی پیر، لسڈنہ، شہید گلہ بلال پوٹھا اور گردونواح میں برفباری کی شدت انتہائی زیادہ ہے جہاں برف کی تہہ 8 فٹ سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔ راولاکوٹ کے مضافاتی علاقوں سمیت ضلع پونچھ میں شدید اور طوفانی برفباری کا سلسلہ جاری ہے، برفباری کا 20 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا۔
شدید برفباری کے باعث ضلع بھر کی تمام بڑی اور رابطہ سڑکیں بند ہو چکی ہیں جبکہ بجلی کی ترسیل کا نظام بھی مکمل طور پر معطل ہے۔ برفانی طوفان کے نتیجہ میں نظامِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے اور شہری گھروں میں محصور ہیں سردی کی شدت میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے، جس کے باعث بزرگوں، بچوں اور مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ایس ڈی ایم اے نے ممکنہ ہنگامی صورتحال کے پیشِ نظر ریڈ الرٹ جاری کر دیا ہے اور عوام کو غیر ضروری سفر سے گریز، محفوظ مقامات پر رہنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
رابطہ سڑکیں بند
بلوچستان کا سرحدی شہر چمن برفباری کے بعد آج شدید سردی کی لپٹ میں ہے ۔ یخ بستہ ہوائیں چلنے سے سب کچھ جم گیا۔ چمن شہر میں کم سے کم درجہ منفی 7 تک جبکہ بالائی پہاڑی علاقوں میں درجہ حرارت منفی 10 تک ریکارڈ کیا گیا ۔ محکمہ موسمیات کے مطابق یخ بستہ ہوائیں چلنے سے سردی کی شدت میں مزید اضافےکا امکان ہے۔
شدید سردی کی وجہ سے بازاروں میں رش اور ٹریفک بھی سڑکوں پر معمول سے کم ہے ۔ چمن شہر میں گھروں میں پانی کے پائپوں میں پانی جم گیا۔ چمن انتظامیہ کی ہدایات پر پی ڈی ایم اے کا عملہ قومی شاہراہ کوژک ٹاپ پر مسلسل نمک پاشی اور کیمیکل کا استمعال کررہا ہے تاکہ سڑک پر برف نہ جم سکے ۔ چمن انتظامیہ کے مطابق کوئٹہ اور چمن کے درمیان ونی شاہراہ ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بحال ہے۔
زیارت، مسلم باغ اور خانوزئی سمیت شمالی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں شدید برفباری اور تیز ہواؤں نے نظامِ زندگی متاثر کر دیا۔ سڑکوں پر شدید پھسلن اور گاڑیوں کے پھنسنے کے واقعات کے باوجود ضلعی انتظامیہ، لیویز اور پی ڈی ایم اے کی بروقت کارروائی سے درجنوں افراد کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا۔
زیارت میں برفباری کے دوران زیارت، کوئٹہ شاہراہ پر 20 سے 25 گاڑیاں پھنس گئیں، جہاں ریسکیو آپریشن کے ذریعے 60 سے 70 افراد کو محفوظ نکالا گیا۔ شدید پھسلن کے باعث سڑکوں پر نمک کا چھڑکاؤ جاری ہے، جبکہ شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔
دوسری جانب مسلم باغ میں پی ڈی ایم اے نے خواتین اور بچوں سمیت 17 افراد کو گاڑیوں سے ریسکیو کر کے ایمرجنسی رسپانس سینٹر منتقل کیا، جہاں انہیں کمبل، خوراک اور ضروری سہولیات فراہم کی گئیں۔
ادھر مستونگ کے علاقے کنڈ میسوری میں برفباری کے باعث پھنسے 40 افراد کو ضلعی انتظامیہ نے بحفاظت نکال لیا، خانوزئی میں بھی کئی افراد کو ریسکیو کرکے محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے ۔ جبکہ ژوب، کوئٹہ این 50 شاہراہ غیر ضروری ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ہے۔ انتظامیہ نے شہریوں سے احتیاط اور غیر ضروری سفر سے گریز کی اپیل کی ہے۔
قلات میں پارہ منفی12تک گرگیا
قلات میں گزشتہ روز کی برفباری کے بعد شہر اور گردونواح میں سردی کی شدت میں مزید اضافہ ہوگیا۔ گزشتہ24گھنٹوں کےدوران قلات میں پارہ منفی12تک گر گیا۔ سخت سردی سے معمولاتی زندگی متاثر سڑکیں سنسان ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ روز کی برف باری ایک فٹ تک ریکارڈ کی گئی۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے جہانزیب خان کا کہنا ہے کہ شدید برفباری کے بعد بلوچستان کے مختلف علاقوں میں شاہراہوں کی بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے۔ زیارت، کان مہترزئی اور کوژک ٹاپ پر پی ڈی ایم اے کی ٹیمیں ہیوی مشینری کے ساتھ سڑکوں سے برف ہٹانے اور نمک پاشی میں مصروف ہیں۔ قومی شاہراہوں پر چھوٹی گاڑیوں کی آمدورفت بحال کر دی گئی ہے، تاہم ہیوی ٹریفک کے باعث مشکلات درپیش ہیں۔
مری میں سیاحوں کا داخلہ بند
مری اور گردونواح میں رات بھر شدید برفباری ہوئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق مری میں اب تک مری میں چار فٹ برفباری ریکارڈ کی گئی۔ خراب موسم کے باعث مری میں مزید سیاحوں کا داخلہ بند کردیاگیا۔ شہر میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن،متعدد علاقے تاریکی میں ڈوب گئے۔ محکمہ موسمیات نے آج مزید برفباری کی پیشگوئی کی ہے۔
مری ایکسپریس وے شدید برفباری سے این 75 پھلگراں ٹال پلازہ سے مری کی طرف ہرقسم کی ٹریفک کیلئے بند کردیا گیا، برفباری کے باعث ضلعی انتظامیہ نے مری جانےوالی ٹریفک کا داخلہ بند کردیا۔
لواری ٹنل ٹریفک کےلئے بند
چترال اور گردنواح میں برفباری کا سلسلہ جاری ہے، چترال ٹاؤن میں ایک فٹ سے زیادہ برف پڑچکی، لواری ٹنل سمیت تمام رابطہ سڑکیں ٹریفک کےلئے بند کردی گئی۔ بجلی کا نظام متاثر، متعدد مقامات پر کھمبے زمین بوس ہوگئے۔
سوات کے مختلف علاقوں میں گزشتہ رات سے شدید برفباری کا سلسلہ جاری ہے، مالم جبہ میں 3 فٹ اور کالام میں ڈھائی فٹ برفباری ریکارڈ کی گئی، وادی گبین جبہ، میاندم، سلاتنڑاورمہوڈنڈ میں بھی برفباری جاری ہے، برفباری سےبالائی علاقوں میں چھتیں اورسڑکیں ڈھک گئیں۔ بعض مقامات پرلوگوں کو آمدروفت میں شدید مشکلات کاسامنا ہے۔
مانسہرہ کے میدانی علاقوں میں بارش اور بالائی علاقوں میں برفباری کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے، وادی کاغان میں شدید برفباری سے شاہراہِ ٹریفک کیلئے بند کردیا گیا۔ سیاحتی مقام شوگراں میں ایک فٹ اورکاغان بازارمیں دس انچ سےزائد برف پڑچکی۔ برفباری سے بجلی کے کھمبے اور درخت شاہراہِ کاغان پرگرگئے۔ انتظامیہ نے ہدایت کی ہے کہ عوام وادی کاغان میں غیرضروری سفر سے گریز کریں۔
دیر شہر سمیت میدانی علاقوں میں بارش،بالائی علاقوں میں برفباری دوسرے روز بھی جاری ہے، لواری میں ڈھائی فٹ برف، کمراٹ، تھل، براول میں ایک فٹ سے زائد برف پڑچکی۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق بغیر سنو چین کا لواری سڑک سے سفر کرنے کی اجازت نہیں، ڈرائیور ٹائروں کو سنو چین لگا کر لواری سڑک پرسفر کریں۔
بٹگرام سمیت میدانی علاقوں میں پانچ سال بعد برفباری ہوئی، بالائی علاقوں میں ایک فٹ تک برفباری ریکارڈ کی گئی۔ برفباری کے باعث شہر میں دوسرے روزبھی بجلی غائب ہے، محکمہ موسمیات کے مطابق آج رات تک بارش وبرفباری کاسلسلہ جاری رہےگا۔
شمالی وزیرستان میں طویل عرصے بعد برف باری
شمالی وزیرستان میں طویل عرصے بعد برف باری سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا، میران شاہ اورمیرعلی میں12سال بعد پہلی مرتبہ برف باری سے پہاڑی علاقوں نےسفید چادر اوڑھ لی۔
قبائلی ضلع مہمند کے مختلف علاقوں میں بھی برفباری سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا، مختلف تحصیلوں میں برفباری سے مشکلات بڑھ گئی۔ صوابی کے سیاحتی مقام بیرگلی میں رات سے برف باری کاسلسلہ جاری ہے، مختلف علاقوں میں3سے4انچ تک برف باری ہوچکی۔






















