وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری سے عالمی بینک اور اسلامی ترقیاتی بینک کے وفود نے ملاقات کی، اویس لغاری نے پاور سیکٹر میں جاری اصلاحات پر بریفنگ دی، مہنگے منصوبے ختم کرنے اور گردشی قرضے میں نمایاں کمی پر پیش رفت سے بھی آگاہ کیا ۔
ملاقات میں وفاقی وزیر توانائی نے وفود کو پاور سیکٹر میں جاری جامع اصلاحات پر بریفنگ دی اور کہا کہ توانائی شعبے میں پائیدار اور مؤثر اصلاحات حکومت کی اولین ترجیح ہیں۔اویس لغاری نے کہا کہ عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ شراکت داری توانائی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ناگزیر ہے، جبکہ مہنگے بجلی منصوبوں کو نظام سے نکالنے سے صارفین کو سترہ ارب ڈالر کا ممکنہ ریلیف ملا ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق بجلی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کے تمام شعبوں میں اصلاحات جاری ہیں، تقسیم کار کمپنیوں کی نااہلیوں میں ایک سو ستانوے ارب روپے کی کمی آئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ گردشی قرضے میں سات سو اسی ارب روپے تک کمی حکومت کی اصلاحاتی پالیسی کا نتیجہ ہے، جبکہ درآمدی کوئلے پر چلنے والے بجلی گھروں کو مقامی تھر کوئلے پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ملاقات کے دوران عالمی بینک اور اسلامی ترقیاتی بینک کے وفود نے پاور سیکٹر میں جاری اصلاحات کو سراہا۔




















