ورلڈ اکنامک فورم 2026 کے موقع پر وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی سعودی عرب کے وزیر خزانہ محمد الجدعان سے سائیڈ لائن ملاقات ہوئی۔
ملاقات میں پاکستان کی معاشی ترقی، سعودی عرب کے تعاون اور اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ۔ دونوں ممالک نے باہمی تعلقات کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ۔
وزارت خزانہ کے مطابق سعودی وزیر خزانہ نے پاکستان کی معاشی بہتری پر اطمینان کا اظہار کیا۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ ملکی زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے جو تقریباً تین ماہ کی درآمدات کے مساوی ہے۔
محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ پاکستان پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھا ہے اور 16 نئے آئی پی اوز زیر غور ہیں، جبکہ ملک میں 120,000 سے زائد نئے سرمایہ کار شامل ہو چکے ہیں۔
وزیر خزانہ کا کہناتھا کہ شرح سود میں کمی شروع ہو گئی ہے ، مانیٹری پالیسی اسٹیٹ بینک کی خودمختاری کے تحت ہے، گزشتہ مالی سال شرح نمو3.1 فیصد، موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں3.7 رہی۔
انہوں نے کہا کہ ترسیلاتِ زر 38 ارب ڈالر سے بڑھ کر 41 ارب ڈالر متوقع ہیں، آئی ٹی سروسز میں اضافہ مثبت اثرات پیدا کر رہا ہے۔
وزیر خزانہ نے معدنیات، زراعت اور دیگر شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری پر زور دیا ، بریفنگ میں بتایا گیا متحدہ عرب امارات کی جانب سے ڈیجیٹل شعبے میں سرمایہ کاری آئی ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ پی آئی اے کےبعد مستقبل میں دیگر سرکاری اداروں کی نجکاری ہوگی، بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں اور بڑے ہوائی اڈے بھی شامل ہیں۔
سعودی وزیر خزانہ نے سعودی عرب کے نجکاری تجربے اور اصلاحات سے آگاہ کیا۔




















