اسلام آباد میں چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی زیرِ صدارت سینیٹ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں قانون سازی کے عمل کے تحت متعدد اہم بلز پیش کیے گئے جبکہ کئی بلز کی منظوری بھی دی گئی۔
اجلاس میں مسلم فیملی لاز ترمیمی بل سینیٹر سرمد علی نے پیش کیا، جسے مزید غور و خوض کے لیے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔
اسی طرح انتخابات ترمیمی بل 2026 ڈاکٹر’زرکا سہروردی ‘نے ایوان میں پیش کیا، تاہم حکومت کی جانب سے بل کی مخالفت کی گئی۔ ڈاکٹر ’زرکا ‘سہروردی کی درخواست پر یہ بل بھی متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا۔
سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے دی نیشنل پاپولیشن کوآرڈینیشن اینڈ ری پروڈکٹیو ہیلتھ بل 2026 پیش کیا، جسے چیئرمین سینیٹ نے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کرنے کی ہدایت دی۔
سینیٹر افنان اللہ کی جانب سے پیش کیا گیا انضباط ورچوئل اثاثہ جات بل بھی قائمہ کمیٹی کے حوالے کر دیا گیا۔
اجلاس کے دوران انسداد اسمگلنگ تارکینِ وطن ترمیمی بل 2024 سینیٹ سے منظور کر لیا گیا، جو سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے پیش کیا تھا۔
اسی طرح صوبائی موٹر گاڑیاں ترمیمی بل 2025 بھی ایوان نے منظور کر لیا۔
سینیٹر سعدیہ عباسی نے دارالحکومت اسلام آباد میں بچوں کو جسمانی سزاؤں کی ممانعت سے متعلق بل واپس لے لیا۔ بل بچوں کو جسمانی سزاؤں کی ممانعت سے متعلق تھا۔
اجلاس میں مزید مجموعہ تعزیراتِ پاکستان ترمیمی بل 2025، فوجداری قوانین ترمیمی بل 2024 اور ذہنی صحت ترمیمی بل 2025 بھی منظور کر لیے گئے، جنہیں سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے ایوان میں پیش کیا تھا۔




















