وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے نیپرا کی اسٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ پر تحفظات کا اظہار کر دیا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ گردشی قرض میں کمی کو اصلاحات سے الگ کرنا حقائق کے برعکس ہے۔ نیپرا کہتا ہے گردشی قرض میں کمی اصلاحات سےنہیں آئی، یہ غلط ہے۔
اویس لغاری نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران آئی پی پیز معاہدوں پر مسلسل نظرثانی اور میرٹ پر فیصلوں سے گرشی قرض میں 780 ارب روپے کمی کی گئی۔ صارفین کو بھی اربوں روپے کا ریلیف ملا۔ اگر اضافی بجلی خریدی جاتی تو مستقبل میں صارفین پر 17 ارب ڈالر کا اضافی بوجھ پڑتا، تاہم بروقت فیصلوں سے مستقبل کے سات ہزار 967 میگاواٹ کے منصوبے ختم کیے گئے۔
وزیر توانائی نے تسلیم کیا کہ بجلی کی قیمتیں اب بھی زیادہ ہیں، تاہم حکومت نے گھریلو صارفین کے ٹیرف میں 19 فیصد اور صنعتی صارفین کے لیے 26 فیصد کمی کی۔ بجلی کے اوسط نرخ 20 فیصد تک کم ہو چکے ہیں۔



















