امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کو غزہ امن بورڈ میں شمولیت کی باضابطہ دعوت دی گئی،وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے میڈیا کے سوالات پر تصدیق کر دی ہے۔
ترجمان دفترخارجہ کےمطابق وزیراعظم پاکستان کو امریکی صدر کی دعوت موصول ہو چکی ہے،پاکستان غزہ میں امن و سلامتی کے قیام کے لیے کی جانے والی عالمی کوششوں میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
ترجمان کاکہنا تھا کہ پاکستان کا مؤقف واضح ہےکہ ایسی عالمی کاوشوں کے ذریعے مسئلہ فلسطین کا دیرپا اورمنصفانہ حل اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق نکالا جانا چاہیے۔
دفتر خارجہ کےمطابق پاکستان ہمیشہ خطےمیں امن،انسانی حقوق کے تحفظ اور فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کی حمایت کرتا آیا ہے اور آئندہ بھی اس مؤقف پر قائم رہے گا۔
غزہ میں جنگ کے خاتمے، انتظامی و انسانی بحالی، اور تعمیرِ نو کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ امن منصوبے اور اس کے تحت غزہ امن بورڈ جیسے مجوزہ انتظامی و سفارتی اقدامات زیرِ بحث ہیں۔
اسی تسلسل میں ڈونلڈ ٹرمپ نے مختلف ممالک کے سربراہان کو دعوت نامے ارسال کیے ہیں تاکہ وہ اس مجوزہ غزہ امن بورڈ کا حصہ بنیں اور جنگ بندی کے بعد استحکام، امدادی رسائی، بنیادی سہولیات کی بحالی، اور طویل المدتی سیاسی حل کی سمت میں مشترکہ کوششوں میں شریک ہوں۔ پاکستان کے وزیراعظم کو بھی اس مجوزہ بورڈ میں شمولیت کی دعوت موصول ہوئی ہے۔
مبصرین کے مطابق یہ خبر نا صرف مثبت اور باوقار ہے بلکہ ایک کامیاب سفارتی پیش رفت بھی ہے۔ وزیراعظمِ پاکستان کو ایسے عالمی پلیٹ فارم کے لیے دعوت ملنا اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ، سفارتی وزن اور اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔
یہ کامیابی تسلسل کے ساتھ کی گئی ریاستی سفارت کاری، بروقت رابطہ کاری اور قومی مفادات کے مطابق مؤثر حکمتِ عملی کا نتیجہ ہے، جس میں سول ڈپلومیسی کے ساتھ ساتھ ملٹری ڈپلومیسی کی مربوط کاوشیں بھی شامل ہیں۔ پاکستان کو ایک ذمہ دار، بالغ نظر اور حل کی طرف لے جانے والے فریق کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
پاکستان کی شرکت یا مثبت ردِعمل کی بنیاد کسی کیمپ کی سیاست نہیں، بلکہ فلسطینی عوام خصوصاً غزہ کے بے گناہ اور نہتے شہریوں پر ہونے والے مظالم کی تکالیف کم کرنے اور ایک منصفانہ، پائیدار حل کی عملی حمایت ہے۔
پاکستان ہمیشہ سے فلسطین کے حقِ خود ارادیت، شہریوں کے تحفظ، فوری جنگ بندی، بلا رکاوٹ انسانی امداد اور تعمیرِ نو کی حمایت کرتا آیا ہے۔ اس تناظر میں یہ دعوت پاکستان کو موقع دیتی ہے کہ وہ محض بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ عملی کردار ادا کرے، بین الاقوامی فورمز پر انسانی بحران کے خاتمے کے لیے موثر آواز بلند کرے، اور ایسے فیصلوں میں اپنا اصولی موقف شامل کرے جو براہِ راست فلسطینیوں کی زندگیوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔





















