ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی مواد شیئر کرنے کے خلاف دائر درخواست پر پشاور ہائی کورٹ نے گزشتہ سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔
تحریری حکم نامے کے مطابق عدالت نےپاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو نوٹس جاری کرتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ عدالت نےحکم دیا ہے کہ سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی مواد کی روک تھام کے لیے لگائی جانے والی فائر وال سے متعلق تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے۔
عدالتی حکم نامے میں بتایا گیا ہےکہ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ حال ہی میں سوشل میڈیا کے لیے ایک نئی اتھارٹی قائم کی گئی ہے۔ وکیل نے اس نئی اتھارٹی کو فریق بنانے کے لیے عدالت سے وقت بھی مانگا، جسے عدالت نے منظور کر لیا۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی اور فحش مواد شیئر کیا جا رہا ہے جبکہ ٹک ٹاک لائیو سیشنز میں غیر اخلاقی گفتگو اور نازیبا حرکات کی جاتی ہیں جس کے باعث معاشرے پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 11 فروری تک ملتوی کر دی ہے۔






















