اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات میں 2025 کو نئے دور کی شروعات کا سال قرار دیا جا رہا ہے، جسے عالمی سیاست میں بدلتے منظرنامے کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔
عالمی ادارے Middle East Political and Economic Institute نے پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں گرمجوشی اور اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ ادارے کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں پاکستان کی اسٹریٹجک اہمیت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، اور انسدادِ دہشت گردی کے تعاون نے دوطرفہ تعلقات کی مضبوط بنیاد رکھی۔
عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق داعش خراسان کے سرغنہ کی گرفتاری سے دوطرفہ تعلقات کو تقویت ملی، دورہ امریکا سے صدر ٹرمپ کا وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پر اعتماد بڑھا ، صدر ٹرمپ نے پاک بھارت جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا، پاکستان نے صدر ٹرمپ کی ثالثی کو سراہا جبکہ بھارت نے اس سے انکار کیا، پاکستان نے صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد بھی کیا۔
عالمی ادارے کے مطابق پاکستان نےصدر ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ امن منصوبے کی حمایت کی، پاکستانی حکومت پاک امریکا تجارت 13.28 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، امریکا نے پاکستان میں ریکوڈک منصوبے سمیت 1.25 ارب ڈالر کی بڑی سرمایہ کاری کی، ایف-16 معاہدہ اور دفاعی تعاون، اسٹریٹجک اعتماد کی بحالی ہوئی۔






















