محققین نے جرمنی میں واقع ایک قرونِ وسطیٰ کے گاؤں میں اپنی نوعیت کی پہلی اجتماعی قبر دریافت کر لی ہے، جس میں طاعون (بلیک ڈیتھ) سے ہلاک ہونے والے ہزاروں افراد سے متعلق اہم شواہد سامنے آئے ہیں۔
اس دریافت کو یورپ میں طاعون سے ہونے والی اموات کے باقاعدہ مدفن کی تاریخی طور پر پہلی نشاندہی قرار دیا جا رہا ہے۔ماہرین کے مطابق 1346 سے 1353 کے درمیان پھیلنے والی بلیک ڈیتھ کی وبا کے نتیجے میں یورپ کی تقریباً نصف آبادی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی تھی۔ اگرچہ تحریری تاریخی ریکارڈز میں اس بات کا ذکر ملتا ہے کہ جرمنی کے شہر ارفُرٹ کے باہر بڑے گڑھوں میں تقریباً 12 ہزار افراد کو دفن کیا گیا تھا، تاہم ان قبروں کے درست مقامات طویل عرصے تک نامعلوم رہے۔
اب ایک بین الشعبہ جاتی تحقیقی ٹیم نے تاریخی دستاویزات، زمینی پیمائشوں اور سیڈیمنٹ کور کے تجزیے کی مدد سے 14ویں صدی کے تحریری ریکارڈز میں بیان کردہ طاعون کے گڑھوں جیسے مدافن کی نشاندہی ممکن بنائی ہے۔
لیپزگ یونیورسٹی کے جغرافیہ دان مائیکل ہائن کے مطابق تحقیق کے نتائج اس بات کی مضبوط شہادت فراہم کرتے ہیں کہ ماہرین نے ارفُرٹ کرونیکلز میں بیان کی گئی طاعون کی اجتماعی قبروں میں سے ایک کو کامیابی سے شناخت کر لیا ہے۔





















