این 25 کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا کہ آج نیشنل ہائی وے اتھارٹی کیلئے تاریخ ساز دن ہے، این ایچ اے کے نیٹ ورک کا40فیصد صرف بلوچستان میں ہے، بلوچستان میں انٹرکنیکٹیوٹی بہتر بنانا وفاق کی پالیسی ہے، بلوچستان کے دور دراز علاقوں کو قومی نیٹ ورک سے جوڑا جائے گا۔
عبدالعلیم خان نے کہا کہ یہ واضح پیغام ہے کہ بلوچستان پاکستان کا دل ہے، بلوچستان کی ترقی اسی وژن کے تحت ممکن ہے، بلوچستان میں این ایچ اے کے اہم منصوبے جاری ہیں، بلوچستان میں سب سے اہم اور لینڈمارک منصوبہ پاکستان ایکسپریس وے ہے، پاکستان ایکسپریس وے منصوبہ کراچی،کوئٹہ سے چمن تک ہے، وفاقی حکومت نے منصوبے کیلئے خصوصی فنڈز فراہم کیے ہیں، منصوبے کو دوسال میں مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ محض سڑک نہیں یہ ملک اور صوبے کی ترقی میں سنگ میل ہے، وزیراعظم نے پیٹرولیم لیوی سے پیسے حاصل کرکے شاہراہ پرلگانے کی ہدایت کی، یہ منصوبہ سی پیک کی تکمیل میں بھی اہم کردار ادا کرے گا، یہ پراجیکٹ ہماری جنوبی بندرگاہوں کو چین اور وسطی ایشیا سے جوڑے گا، یہ ایکسپریس وے بلوچستان کے عوام کے لیے صحیح معنوں میں گیم چینجر ہے، یہ شاہراہ روزگار، سرمایہ کاری، تعلیم،صحت،معاشی ترقی کے نئے درکھولےگی۔
وزیر مواصلات نے کہا کہ این ایچ اے بلوچستان مین 735 ارب روپے کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے، بلوچستان میں 15 منصوبوں پرکام ہو رہا ہے، یہ سولہواں منصوبہ ہے، پاکستان ایکسپریس وے پر 400 ارب روپے خرچ ہوں گے، این 25 کے 100ارب روپے کی سیکشن پر60 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، لک پاس سے تفتان تک شاہراہ این 40 کو بھی مکمل کر رہے ہیں، ایران بارڈر پر این 40 شاہراہ 660 کلومیٹر طویل ہوگی۔
ان کا کہناتھا کہ آوران جھل جھاؤ بیلا روڈ منصوبے مکمل ہو چکے ہیں، یہ منصوبے دورافتادہ علاقوں میں مکمل کیے گئے ہیں، وزارت مواصلات شفاف اقدامات سے اپنی آمدنی مسلسل بڑھا رہی ہے، وزارت مواصلات کےپاس 2024 میں 68 ارب روپے کا ریونیو تھا، جون 2025 میں ریونیو 109 ارب روپے ہوگیا، یہ ریونیو ملک میں نئے منصوبوں پر خرچ کیا جائے گا ۔



















