شہر میں بھتہ خوری کے ایک منظم نیٹ ورک کے جیل کے اندر قائم ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) نے گرفتار بھتہ خوروں سے تفتیش مکمل کر لی ہے۔
پولیس کے مطابق جواد عرف واجہ، شاہ زیب اور ریحان سے کی گئی تفتیش میں معلوم ہوا کہ بھتہ خوری کا یہ نیٹ ورک 2022 میں فعال ہوا۔ ملزم جواد عرف واجہ نے انکشاف کیا کہ اس کی صمد کاٹھیاواری سے جیل میں ملاقات ہوئی، جس کے بعد نیٹ ورک کو منظم کیا گیا۔ ملزم کے مطابق 2022 میں جیل سے باہر آنے کے بعد دوبارہ کارندوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔
گرفتار ملزم شاہ زیب نے اعتراف کیا کہ وہ ماضی میں کار شورومز پر بھی کام کرتا رہا اور کار شورومز سے وصول کیا گیا بھتہ جواد کے کہنے پر ٹپ میں دیتا تھا۔ شاہ زیب کے مطابق جواد کے کہنے پر ریحان لڑکے اور سمز فراہم کرتا تھا جبکہ فائرنگ اور دھمکیاں دینے والے افراد کو 50 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک ادائیگیاں کی جاتی تھیں۔
پولیس کے مطابق جواد عرف واجہ اور شاہ زیب کو ناظم آباد کے علاقے قادری ہاؤس سے گرفتار کیا گیا تھا۔ مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔






















