سیف سٹی اسلام آباد نے سال 2025 کی سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری کر دی، جس کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال سے شہر میں نگرانی، عوامی تحفظ اور فوری رسپانس کے نظام کو مزید مضبوط بنایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق سال 2025 کے دوران سیف سٹی اسلام آباد نے 97 ہزار 506 مختلف نوعیت کے سرویلنس آپریشنز انجام دیے، جبکہ 200 کے قریب ملکی و غیر ملکی وفود نے سیف سٹی اسلام آباد کا دورہ کیا۔ رواں سال 696 اے آئی بیسڈ فیشل ریکگنیشن اور جدید اے این پی آر کیمروں کا اضافہ کیا گیا۔
سیف سٹی نے 2025 میں ہنچ لیب اور گولڈن آور سسٹم بھی متعارف کروایا، جس کے ذریعے 326 اہم کیسز میں فوری رسپانس کو یقینی بنایا گیا۔ ہنچ لیب کی مدد سے 101 خطرناک گروہوں کی نشاندہی کی گئی، جبکہ 82 ملزمان کی گرفتاری عمل میں آئی۔
ہوٹل آئی سسٹم کے تحت 11 لاکھ 45 ہزار افراد کا ڈیٹا ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ڈیجیٹل شناخت کے ذریعے 300 سے زائد اشتہاری ملزمان کو قانون کی گرفت میں لایا گیا۔ ڈیجیٹل کنٹرول روم نے سال بھر میں 7 لاکھ 45 ہزار شہریوں کی رہنمائی کی۔
کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے 78 ہزار شکایات موصول ہوئیں جنہیں میرٹ پر حل کیا گیا۔ آن لائن ویمن پولیس اسٹیشن ہیلپ لائن 1815 پر 90 ہزار کالز موصول ہوئیں جن پر فوری کارروائی کی گئی۔
مزید بتایا گیا کہ سیف سٹی اسلام آباد میں پہلا کوالٹی اشورنس ڈیسک قائم کیا گیا، جس کا مقصد رسپانس کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔ ای چالان سسٹم کے ذریعے سال 2025 میں 11 ہزار 372 ڈیجیٹل چالان جاری کیے گئے۔
سال کے دوران آن لائن ٹیکسی ویری فکیشن ایپ اور ون انفو ایپ بھی متعارف کروائی گئیں۔ ٹیکسی ایپ کے ذریعے 35 ہزار سے زائد مسافر، ڈرائیورز اور ٹیکسیاں رجسٹرڈ ہوئیں، جبکہ ون انفو ایپ کے ذریعے شہریوں نے 1206 مختلف اقسام کی معلومات پولیس کو فراہم کیں۔
چینی کمیونٹی سے مؤثر رابطے اور فوری مدد کی فراہمی کے لیے وی چیٹ سروس بھی متعارف کروائی گئی، جسے شہریوں کی جانب سے مثبت پذیرائی حاصل ہوئی۔



















