پنجاب نے کلین انرجی کے شعبے میں نمایاں پیش رفت کرتے ہوئے بائیوگیس اور ویسٹ ٹو انرجی منصوبوں کے ذریعے خود کفالت اور گرین انرجی اکانومی کی بنیاد رکھ دی ہے۔
جدید گرین ٹیکنالوجی اب پنجاب کے شہروں اور دیہات تک پہنچنے جا رہی ہے، جسے موسمیاتی تبدیلی کے خلاف ایک اہم اور گیم چینجر قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے میں 6 بائیوگیس پلانٹس کے قیام کی منظوری دے دی ہے، جن میں 4 لاہور جبکہ 2 فیصل آباد میں لگائے جائیں گے۔
ان منصوبوں سے پنجاب میں کلین انرجی کے عملی آغاز کے ساتھ ساتھ زرِ مبادلہ کی بچت، قدرتی کھاد کی تیاری اور ماحول دوست توانائی کے فروغ میں مدد ملے گی۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت ہونے والے ایک اہم اجلاس میں پنجاب کے کلین انرجی مستقبل پر تاریخی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں سمال بائیوگیس پلانٹس کے قابلِ عمل منصوبے طلب کرنے، ملٹی پل فیول بائیو ریفائنری کے لیے فیزیبلٹی اسٹڈی کی منظوری اور لاہور میں ویسٹ ٹو انرجی پراجیکٹ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے مثالی گاؤں پروگرام کے تحت بائیوگیس پلانٹس کے تین پائلٹ پراجیکٹس شامل کرنے کی بھی منظوری دی۔ بائیوگیس پلانٹس کے ذریعے گھریلو استعمال کے لیے سستی گیس فراہم کی جائے گی جبکہ فصلوں کے لیے بائیو فرٹیلائزر بھی دستیاب ہوگا، جس سے کسانوں اور ماحول دونوں کو فائدہ پہنچے گا۔
ویسٹ ٹو انرجی منصوبے کے تحت الیکٹرک بس اور میٹرو بس کو سستی بجلی فراہم کرنے کا بھی منصوبہ بنایا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ویسٹ ٹو انرجی پراجیکٹ کی جلد تکمیل کی ہدایت کر دی۔



















