پاکستان نے خلا بالخصوص لو ارتھ آربٹ (ایل ای او)میں قانون کی حکمرانی اور جوابدہی یقینی بنانے کے لیے قانونی طور پر پابند بین الاقوامی معاہدوں پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ غیر منظم ایل ای او سیٹلائٹس ڈیجیٹل عدم مساوات، غلط معلومات کے پھیلاؤ، عسکریت پسندی، خودمختاری کو لاحق خطرات اور خلائی ملبے جیسے سنگین مسائل کو جنم دے رہے ہیں۔
اقوام متحدہ میں پاکستانی مشن کے قونصلر اور پولیٹیکل کوآرڈینیٹر گل قیصر سرورانی نے سلامتی کونسل کے 15 رکنی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایل ای او میں تجارتی سرگرمیوں کے غیر منظم پھیلاؤ کے باعث آربیٹل سلاٹس، سپیکٹرم، سپیس سچویشنل اویئرنیس صلاحیتوں اور معاشی فوائد محدود ممالک اور اداروں تک مرتکز ہو رہے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اصلاحی اقدامات کے بغیر ترقی پذیر اور ابھرتے خلائی ممالک طویل المدتی طور پر حاشیے پر چلے جائیں گے۔ گل قیصر سرورانی نے پاکستان کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ خلا بشمول لو ارتھ آربٹ تمام انسانیت کی مشترکہ میراث ہے اور اس پر کسی ملک یا ادارے کی اجارہ داری قابل قبول نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی یا تجارتی غلبہ ،خصوصی رسائی یا ضابطہ جاتی برتری میں تبدیل نہیں ہونی چاہیے۔ میگا کانسٹیلیشنز میں تیزی سے اضافے کے باعث خلائی گنجائش میں ازدھام، سپیکٹرم کے لیے مسابقت اور خلائی ملبے کے خطرات میں اضافہ ہوا ہے جو مستقبل میں ایل ای او کے پائیدار استعمال اور نئے ممالک کی منصفانہ رسائی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ تجارتی ایل ای او نظاموں کا فوجی اور انٹیلی جنس مقاصد میں بڑھتا استعمال شہری اور عسکری حدود کو دھندلا رہا ہے جس سے غلط فہمی، کشیدگی اور غیر ارادی تصادم کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت خلا میں ہونے والی تمام قومی سرگرمیوں کی ذمہ داری ریاستوں پر عائد ہوتی ہے چاہے وہ سرگرمیاں نجی اداروں کے ذریعے ہی کیوں نہ انجام دی جا رہی ہوں۔ گل قیصر سرورانی نے کہا کہ ایل ای او سے متعلق خطرات کو خلائی سلامتی کے وسیع تر تناظر سے الگ نہیں دیکھا جا سکتا جن میں خلا میں ہتھیاروں کی دوڑ، اینٹی سیٹلائٹ صلاحیتوں کی ترقی اور خلائی اثاثوں کا جوہری، سائبر اور روایتی فوجی حکمت عملیوں میں انضمام شامل ہے جو مجموعی طور پر عالمی سٹریٹجک استحکام کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایل ای او نظاموں کا غلط معلومات پھیلانے، سماجی عدم استحکام پیدا کرنے یا داخلی معاملات میں مداخلت کے لیے استعمال خودمختاری اور عدم مداخلت کے اصولوں کے منافی ہے جبکہ موجودہ بین الاقوامی نظام ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ناکافی ہے۔
پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ پاکستان رضاکارانہ ضابطوں اور شفافیت کے اقدامات کی حمایت کرتا ہے، تاہم یہ جامع اور قانونی طور پر پابند بین الاقوامی معاہدوں کا متبادل نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ابھرتے خلائی چیلنجز خصوصاً ایل ای او کے پھیلاؤ سے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان موجود تکنیکی اور ضابطہ جاتی خلیج کو مزید وسیع نہیں کرنا چاہیے۔






















